ن لیگ اور پی پی آئینی ترامیم کے مسودے پر متفق، مولانا فضل الرحمن کی تجاویز بھی شامل
اسلام آباد :مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نوازشریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 2006 میں دونوں پارٹیوں کے درمیان کیے گئے میثاق جمہوریت کو راست اور پرتاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئے اسے مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
میاں نوازشریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات میں مہنگائی کی شرح 32 سے 6.9 فی صد ہونے، پالیسی ریٹ میں کمی اور معاشی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا اور ساتھ ہی سعودی سرمایہ کار وفد کی آمد اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے انعقاد کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔
دونوں قائدین نے کہا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی کی رفتار بڑھنا خوش آئند اور نیک فال ہے اور اسی سی او اجلاس سمیت دیگر سرگرمیاں پاکستان کے عالمی وقار اور معاشی بہتری کے لیے نہایت مثبت پیش رفت ہے۔

اس موقع پر نواز شریف نے کہا کہ وقت نے ثابت کیا کہ سنہ 2006 میں میثاق جمہوریت پر دستخط کرنا ہمارادرست سمت اور درست وقت پرتاریخی فیصلہ تھا اور جس سے ملک میں جمہوریت کو استحکام ملا اور پارلیمنٹ نے بھی اپنی مدت پوری کرنی شروع کی۔
قائد ن لیگ نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے نتیجے میں دھرنے، انتشار خلفشار اور یلغار کی سیاست کرنے والی غیرجمہوری قوتوں کا تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر مقابلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سب جمہوری قوتوں کو مل کر پارلیمنٹ کے ذریعے عدل کا نظام وضع کرنا ہے جس میں کسی فرد کی بالادستی نہ ہو بلکہ عوام کی رائے اور اداروں کا احترام ہو۔
نواز شریف نے کہا کہ کسی ایک شخص کو وہ قوت اور اختیار حاصل نہیں ہونی چاہیے کہ جس سے وہ اچھے بھلے جمہوری نظام کو جب چاہے پٹڑی سے اتار دے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ فرد واحد ملک وقوم کو سیاہ اندھیروں کے سپرد کردے۔
انہوں نے کہا کہ آج حاصل ہونے والی معاشی کامیابیوں کی بنیاد بھی سیاسی اتحاد واتفاق ہے۔ انہوں نےمزید کہا کہ میثاق جمہوریت میں خواہش ظاہر کی گئی تھی کہ تمام قوتیں مل کر پاکستان کو معاشی سیاسی استحکام دیں جس کے نتیجے میں پاکستان خوش حال ہو۔

بلاول بھٹو کا اس موقعے پر کہنا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور آپ (نواز شریف) نے میثاق جمہوریت کی شکل میں ملک کو آگے بڑھانے کا تاریخی قدم اٹھایا اور اس سفر کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اس پر نواز شریف نے کہا کہ سیاسی رواداری، اخلاق، آئین و قانون اور پارلیمان کی بالا دستی کے لیے ہم (ن لیگ، پی پی و دیگر ہم خیال سیاسی جماعتیں) ایک ہیں۔
نواز شریف نے بھی پیپلز پارٹی کے دور میں ہونے والی 18ویں ترمیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اداروں کو مضبوط کیا تھا۔ انہوں نے بلاول بھٹو کے سیاسی کردار کو سراہتے ہوئے جوان سیاستدان کو شاباش بھی دی۔
قائد ن لیگ نے مرحومہ بینظیر بھٹو کے صاحبزادے سے یہ بھی کہا کہ ’میں آپ کے سیاسی اثاثے، وژن، سوچ اور تجربے کی بہت قدر کرتا ہوں اور آپ کی ان خوبیوں کی ملک اور قوم کو ضرورت ہے‘۔
ملاقات کے دوران بلاول بھٹو نے آئینی عدالتوں اور عدالتی اصلاحات کی ترامیم سے متعلق تجاویز سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’میری خواہش ہے کہ آئینی ترامیم سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے منظور ہوں‘۔
اس پر نواز شریف نے چیئرمین پی پی کو یقین دہانی کرائی کہ ن لیگ ملک کی بہتری کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کی ہر تجویز کے ساتھ کھڑی ہے۔
نواز شریف اور بلاول بھٹو کے درمیان ملکی ترقی اور خوش حالی کے لیے ملک کی سیاسی جماعتوں کے مشترکہ مقاصد ہونے پر بھی اتفاق ہوا۔

نواز شریف سے ملاقات کے لیے آئے بلاول بھٹو کے ہمراہ آنے والوں میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، رضا ربانی، پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان، راجہ پرویز اشرف، نوید قمر اور مرتضیٰ وہاب بھی شامل تھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال، راناثناءاللہ، مریم اورنگزیب، پرویز رشید اور سینیٹر عرفان صدیقی بھی اس موقعے پر موجود تھے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں