ہمیں یا اسرائیل کو ٹارگٹ نہ کریں، امریکہ کا ایران کو انتباہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا نے ایران کو خبردار کر دیا ۔ روس کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر میزائل حملے کو اس طرح پیش نہیں کیا جا سکتا جیسے کچھ نہیں ہوا مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرق وسطیٰ میں جاری تشدد کے سلسلے کو روکنے کا مطالبہ کیا ، انہوں نے کہا کہ وقت ختم ہو رہا ہے۔
لبنان میں حسن نصراللہ کی شہادت اور اسرائیل کے زمینی حملوں کے بعد منگل کے روز ایران نے اسرائیل پر 400 سے زائد مزائل داغے جس کے بعد مشرق وسطیٰ پر جنگ کےسائے منڈلا رہے ہیں ۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ ہماری کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں۔ واضح کر دوں کہ ایرانی حکومت کو اپنے اقدامات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

ہم ایران یا اس کے کسی حلیف کو امریکا یا اسرائیل کے خلاف مزید کارروائیوں کے خلاف سختی سے خبردار کرتے ہیں۔اجلاس میں روس کے نمائندے حالیہ کشیدہ صورتحال پر ایران کے برداشت کے مظاہرے کی تعریف کی ، روسی نمائندے نے کہا کہ اسرائیل پر میزائل حملے کو اس طرح پیش نہیں کیا جا سکتا جیسے کچھ نہیں ہوا۔ ایران نے اسرائیل پر مزائل داغے ہیں
جس نے مشرق وسطیٰ کے تنازعے کو ایک نئےاور خطرناک موڑ کی طرف دھکیل دیا ہے۔فرانسیسی نمائندے نیکولس دی ریویر نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ فرانس چاہتا ہے کہ سلامتی کونسل اس صورتحال کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو کر بات کرے ۔ امریکی سفیر نے ایران کے حملے کے بعد ایران کی اسلام رولوشینری گارڈز کور پر اضافی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا بدھ کے روز اسرائیل نے ایرانی حملے کی مذمت نہ کرنے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں سیکرٹری جنرل بتایا کہ انہوں نے ایران کے اسرائیل پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ ایران نے منگل کو سلامتی کونسل کو خط میں اپنے حملے کا دفاع اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت کیا، جس میں اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کا حوالہ دیا گیا ۔ایران نے خط میں لکھا کہ ایران نے بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے صرف اسرائیلی حکومت کی فوجی اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈانون نے ایران کے دعوے کو مسترد کر دیا ، اسرائیلی سفیر نے کہا کہ یہ اسرائیل کی شہری آبادی پر ایک سوچا سمجھا حملہ تھا۔ اسرائیل اس جارحیت کا سامنا خاموشی سے نہیں کرے گا۔ ہمارا جواب فیصلہ کن اور تکلیف دہ ہوگا

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں