افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب،رزمک میں ہلاک دہشتگرد سے افغان دستاویزبرآمد

پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے ایک اور افغان دہشت گرد کی شناخت ہو گئی جس سے برآمد ہونے والی دستاویزات نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے گٹھ جوڑ کو بھی نے نقاب کردیا ۔

سکیورٹی حکام کے مطابق26 ستمبر2024ء کو شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں سیکورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کر کے 8 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں سے ایک کا تعلق افغانستان کے صوبے پکتیکا کے علاقے برمل سے ہے جس کی شناخت جلال ولد نعمت اللہ کے نام سے ہوئی۔

سکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک دہشتگرد جلال سے بر آمد ہونے والا شناختی کارڈ اس کے افغان شہری ہونے کا واضح ثبوت ہے ۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دوسرے دہشتگرد سیف اللہ ولد دین فراز کا تعلق فتنتہ الخوراج کے خارجی گل بہادر گروپ سے ہے۔

خارجی سیف اللہ سے برآمد ہونے والا اسلحہ لائسنس افغانستان کی عبوری حکومت کا جاری کردہ ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سیف اللہ کو افغانستان میں ہتھیار سمیت مکمل آزادی حاصل تھی۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خارجیوں سے ملنے والے ناقابل تردید شواہد واضح کرتے ہیں کہ افغان طالبان اور فتنتہ الخوارج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس طرح کے ناقابل تردید شواہد سامنے آئے ہوں ، اس سے قبل فتنتہ الخوراج کے سرغنہ نور ولی اور مزاحم محسود کی افغانستان میں موجودگی کے نا قابل تردید ثبوت سامنے آچکے ہیں۔آئے روز افغان دہشتگردوں کی پاکستان سرزمین پر ہلاکت افغان طالبان اور فتنتہ الخوراج کے مضبوط گٹھ جوڑ کو عیاں کرتی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے افغان عبوری حکومت کو کئی بار مستند شواہد پیش کئے مگر افغان طالبان کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔افغان طالبان دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر فتنتہ الخوارج کا مکمل ساتھ دے رہے ہیں ۔افغان طالبان اور فتنتہ الخوارج کے گٹھ جوڑ سےخطے کے امن کوشدید خطرات لاحق ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے