پنجاب حکومت کی جانب سے قبروں پر ٹیکس لگانے کا جھوٹا دعویٰ
آن لائن صارفین ایک مقامی نیوز چینل کا کلپ شیئر کر رہے ہیں جس میں مبینہ طور پر بتایا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے اپنے نئے بجٹ میں بڑوں اور بچوں کی قبروں پر ٹیکس لگا دیا ہے۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔
دعویٰ
4 جولائی کو، ایک سوشل میڈیا صارف نے X ، جسے پہلے ٹوئٹر کہا جاتا تھا، پر دو منٹ کی ایک ویڈیواس کیپشن کے ساتھ شیئر کی: ”قبروں پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ، بڑوں کی قبر پر 1,500روپے اور بچوں کی قبر پر 1,000روپے ٹیکس۔ “
منسلک ویڈیو میں ایک مقامی نیوز چینل کی رپورٹ دکھائی گئی ہے جو ایسا ہی دعویٰ کرتی ہے۔اس آرٹیکل کے شائع ہونے کے وقت تک کلپ کو 100 سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔
اسی طرح کا دعویٰ فیس بک پر بھی شیئر کیا گیا۔
حقیقت
سرکاری حکام کے مطابق، صوبہ پنجاب میں قبروں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا اور نہ ہی ایسے ٹیکسوں کی کوئی تجویز زیر غور ہے۔
لاہور میں لوکل گورنمنٹ اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی اسپیشل سیکرٹری آسیہ گل نے آن لائن دعووں کو ”جعلی“ قرار دیا۔
انہوں نے کہا ”لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے نہ ہی ایسی کوئی پروپوزل initiate کی ہے اور نہ ہی گورنمنٹ نے ایسی کوئی approve کی ہے۔“
اس کے علاوہ، صوبے بھر میں ماڈل قبرستانوں کے قیام کی ذمہ دار پنجاب شہر خموشاں اتھارٹی کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس اسلم ندیم نے بھی تصدیق کی کہ انہوں نے ایسی کوئی تجویز نہیں دیکھی اور وہ صوبے میں قبروں پر کسی ٹیکس سے لاعلم ہیں۔
فیکٹ چیک نے 2024-25کے پنجاب کے بجٹ کا جائزہ لیا اور قبروں پر کسی ٹیکس کا ذکر نہیں پایا۔
کمبائنڈ کی ورڈ اینڈ ریورس سرچ سے یہ بات سامنے آئی کہ مقامی نیوز چینل کا کلپ جو آن لائن شیئر کیا جا رہا ہے وہ دراصل حالیہ نہیں بلکہ سال 2019 کا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں