سوات: غیر ملکی سفیروں کے قافلے پر حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید،4 زخمی،تمام سفیرمحفوظ رہے
سوات میں غیر ملکی سفیروں کے سکواڈ میں شامل پولیس وین پرحملے میں ایک اہلکار شہید اور چار زخمی ہوگئے ،مالم جبہ روڈ جہان آباد میں پولیس وین کو دہشتگردوں نے ریمورٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا۔
پولیس نے بتایاکہ پولیس وین دس سے زائد ممالک کے سفیروں کی سکیورٹی قافلے میں شامل تھی، دھماکے میں تمام سفیرمحفوظ رہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قافلے میں روس، ایران، پرتگال، انڈونیشیا، تاجکستان، قازقستان اور ایتھوپیا کے سفیرموجود تھے، واقعے کے بعد تمام سفیر اسلام آباد روانہ ہوگئے۔
پولیس کے مطابق تمام سفیر چمیبرآف کامرس مینگورہ کی تقریب میں شرکت کے بعد مالم جبہ جارہے تھے۔
شہید اہلکار کی شناخت کانسٹیبل برہان کے نام سے ہوئی ہے جبکہ زخمیوں میں سب انسپکٹر سرزمین، کانسٹیبل امان اللہ، کانسٹیبل حبیب گل اور ڈرائیور رحمت اللہ شامل ہیں۔
سوات کے ضلعی پولیس افسر زاہد اللہ خان کے مطابق سفارت کار مقامی چیمبر آف کامرس کی دعوت پر وادی سوات کے علاقے کا دورہ کر رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کا جو دستہ قافلے کی قیادت کر رہا تھا، وہ سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور چار زخمی ہو گئے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس محمد علی گنڈا پور نے رائٹرز کو اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تمام سفیر حملے میں محفوظ رہے اور اسلام آباد روانگی سے قبل انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قافلے میں انڈونیشیا، پرتگال، قازقستان، بوسنیا ہرزی گوینیا، زمبابوے، روانڈا، ترکمانستان، ویتنام، ایران، روس اور تاجکستان کے سفیر شامل تھے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام رہی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت امن کے قیام میں مخلص نہیں ہے اور ان کا طرز عمل دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے، سوات میں پولیس پر حملہ اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کی سازش ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں