راولپنڈی پولیس کے ہاتھوں دو کشمیری طلباء کے قتل پر احتجاج
راولپنڈی میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے دو کشمیری طالبعلموں کو آبائی علاقے منگ آزاد کشمیر میں سپرد خاک کردیا گیا تاہم وقوعہ کے اصل حقائق ابھی تک سامنے نہیں آسکے۔
راولپنڈی کے تھانہ نصیر آباد کے علاقے چاکرہ میں مبینہ پولیس مقابلے میں ڈاکو قرار دے کر مارے جانے والے دونوں طالب علم آپس میں کزن تھے ۔ مقتولین کے ورثاء اور کشمیری کمیونٹی نے واقعہ کے خلاف کوہ نور ملز کے قریب پشاور روڈ کو بند کرکے پولیس کے خلاف احتجاج کیا اور لاشیں سڑک پر رکھ کر نعرے بازی کی ۔ مظاہرے میں شریک لواحقین کا کہنا تھا کہ مزمل اپنے کزن سبحان کو چاکرہ روڈ پر گھر چھوڑنے جا رہا تھا ۔ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے مزمل کا والد بیرون ملک ہے جبکہ سبحان کے بزرگ والد کا کہنا تھا کہ پولیس نے دونوں نوجوانوں کو ناحق قتل کیا،کسی اور علاقے میں قتل کر کے لاشیں یہاں کر پھینکی گئیں ۔
ورثاء کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوانوں کو تھانہ چونترہ میں حراست میں رکھا گیا، خاندان کے افراد نے ایس ایچ او تھانہ چونترہ ثاقب عباسی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بھاری رشوت بھی طلب کی جارہی تھی۔
دوسری طرف پولیس کا موقف ہے کہ مارے جانے والے دونوں نوجوان شہریوں سے موبائل چھیننے کی وارداتوں میں ملوث تھے ،ملزمان نے چاکرہ میں وارداتیں کیں جن کو مدعیوں نے شناخت بھی کرلیا تھا، مقتولین سے چھینا گیا موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے ، لواحقین کے مطالبے پرپولیس مقابلے کی انکوائری کرائی جائے گی ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں