تین سیاحوں کی موت پر آزاد کشمیر انتظامیہ کو تنقید کا سامنا

ممتاز عالم دین مولانا یوسف لدھیانوی شہید کی فیملی سے تعلق رکھنے والے تین سیاحوں کی وادی نیلم میں حادثاتی موت کے بعد آزاد کشمیر انتظامیہ کو سخت تنقید کا سامنا ہے، سیاحوں کی گاڑی کو رواں ہفتے ضلع نیلم میں بابون جبڑی بہک کے مقام پر حادثہ پیش آیا تھا جس میں ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق اور5 زخمی ہوئے۔

حادثے میں زندہ بچ جانے والے سیاح کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ ہم نے بار بار کہا ہمیں کوئی جلدی نہیں اس کے باوجود ڈرائیور نے تیز رفتاری سے کام لیا اور حادثے کے بعد جب زخمی چلارہے تھے تو ڈرائیور ہماری مدد کرنے کی بجائے موقع سے فرار ہو گیا جتنی دیر میں مقامی افراد مدد کے لئے پہنچے تب تک زخمیوں کابہت زیادہ خون بہہ چکا تھا

ویڈیو بیان میں سیاح نے مقامی افراد کے تعاون کی تعریف کی لیکن ڈرائیور کی بے حسی کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو گئیں ۔

ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی نے تین افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی جن کی شناخت صارم صدیقی اور ان کے دو کمسن بچوں کے طور پر کی گئی جبکہ پانچ زخمیوں میں ایک خاتون کی حالت تشویشناک ہے جو جاں بحق ہونے والے بچوں کی والدہ بتائی جارہی ہیں۔

بابون حادثہ میں جاں بحق تینوں افراد کی کراچی میں تدفین ہو چکی ہے لیکن اس حادثہ کے بعد وادی نیلم میں سوگ کی کیفیت ہے اور جگہ جگہ اسی حادثے سے متعلق بات کی جارہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ چند روز سے زیر بحث ہے ۔ مقامی افراد اور سوشل میڈیا صارفین جہاں حادثہ کے بعد ڈرائیور کی بے حسی پر تنقید کر رہے ہیں وہیں میتوں کو کراچی بھیجنے کے لئے کیے جانے وانے انتظامات پر شرمندگی کا اظہار کررہے ہیں، سماجی ورکر راجہ معظم نے شازورگاڑی میں میتوں کو روانہ کرنے پرافسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا پورے نیلم میں کوئی ایمبولینس نہیں تھی جس میں عزت کے ساتھ میتوں کو بھیجا جاتا ۔

صحافی امیرالدین مغل نے زندہ بچ جانے والے سیاح کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈرائیور سے متعلق باتیں سچ ہیں تو یہ ہمارے لئے شرمندگی کا مقام ہے ہمارے لوگوں نے کبھی سیاحوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کیا ایک شخص کی بے حسی نے سب کے سر شرم سے جھکا دیئے ۔

صحافی طارق نقاش نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ ہر حادثے کے بعد ہماری حکومتوں اور انتظامیہ کو ایک دو دن تک قانون کی عملداری کا بخار رہتا ہے، بلند وبانگ دعوے بھی ہوتے ہیں اور پھر سب کچھ بھلا دیا جاتاہے ۔ دنیا بھر میں حکومتیں حادثات کے بعد وجوہات کا تعین کرواتی ہیں، ان کے تدارک کے لیے پالیسیاں وضع اور قوانین نافذکرتی ہیں مگر یہاں الٹی گنگا ہی بہتی ہے۔

عدنان خان نامی صارف نے لکھا کہ جس جگہ حادثہ ہوا یہ سب پوائنٹ بند کیے تھے لیکن عوام نے شور شرابا کیا جس کے بعد کھول دیے گئے حالانکہ یہ سڑک نہیں موت کا کنواں ہے۔ اس سڑک پر ٹرانسپورٹ چل ہی نہیں سکتی تو انتظامیہ کیا کرے گی۔سردار میر مسرت نواز نے لکھا کہ بے لگام سیاحت نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام آزاد کشمیر کے سوشل میڈیا اکائونٹ سے بھی ڈرائیور کے عمل کی مذمت کی گئی اور ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ میتوں کو وزیر اطلاعات مولانا پیر مظہر سعیدشاہ نے خود رخصت کیا اور سفری انتظامات بھی کروائے ، اس حادثہ کے بعد وزیراطلاعات مولانا پیر مظہر سعید شاہ نے آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے متاثرہ خاندان کے ساتھ تعزیت کی اور روڈ انفراسٹرکچر بہتر بنانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اٹھمقام کی ضلعی انتظامیہ کو بابون حادثہ کی انکوائری کی ہدایات جاری کی ہیں اگر ڈرائیور کی غفلت ثابت ہوئی تو ضرور کارروائی کی جائے گی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے