وادی نیلم: تین لاپتہ کوہ پیمائوں کی 9 سال بعد لاشیں مل گئیں
آزاد کشمیر کی سب سے بلند ترین چوٹی ‘سروالی’ کو سر کرنے کی مہم کے دوران لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیمائوں کی 9 سال بعد لاشیں مل گئیں ۔
لاپتہ کوہ پیمائوں کی تلاش کے لئے کیا جانے والا آزاد کشمیر کی تاریخ کاسب سے بڑا سرچ اینڈ ریکوری آپریشن کامیاب رہا جس کے دوران 9 سال قبل لاپتہ ہو جانے والے تین کوہ پیمائوں کی لاشوں کو تلاش کیا گیا۔
سر والی کے نام سے مشہور یہ بلند ترین چوٹی ضلع نیلم کی سب ویلی شونٹھر میں واقع ہے جس کی سطح سمندر سے بلندی20 ہزار 755فٹ ہے ، یہ چوٹی ابھی تک ناقابل تسخیر ہے
اگست 2015 میں اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کے دوران تین کوہ پیماء عمران جنیدی، عثمان طارق اور خرم راجپوت لاپتہ ہوگئے تھے ۔
ریسکیو ٹیم کے ساتھ موجود سینئر صحافی امیر الدین مغل کے مطابق لاپتہ کوہ پیمائوں کی باقیات تقریباً17 ہزار فٹ کی بلندی سے ملی ہیں جنہیں ابتدائی طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کیل منتقل کیا گیا۔ ریکوری آپریشن میں شریک ٹیم کو خراب موسم کی وجہ سے کافی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا تاہم اس مرتبہ موسم ماضی کے مقابلے میں کافی بہتر تھا۔
اگست 2015 میں جب کوہ پیماء لاپتہ ہونے کی خبریں سامنے آئیں تو پاکستان آرمی اور ماہر کوہ پیماؤں کی مدد سے کئی دن تک سرچ آپریشن کیلئے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیا گیا لیکن کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تھی کیونکہ وقوعہ کے فوری بعد تازہ برفباری نے نشانات مٹادیئے تھے۔
لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کیلئے جون 2022 میں بھی ایک ٹیم نے کوشش کی تھی تاہم اسے بھی کامیابی نہ مل سکی
اس سلسلے میں سب سے پہلی کامیابی ایک مقامی گائیڈ الطاف کو ملی جب انہوں نے ان لاپتہ کوہ پیماؤں کی باقیات کو دیکھا جن میں لباس وغیرہ بھی شامل تھا ، باقیات والی جگہ کی نشاندہی کے بعد ریکوری ٹیم کے لئے آپریشن مزید آسان ہوا۔
امیر الدین مغل کے مطابق آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں سترہ ہزار سے لیکر تقریباً اکیس ہزار فٹ تک بلند کئی پہاڑی چوٹیاں ہیں جن کو ابھی تک سر نہیں کیا جا سکا جس میں سروالی کے علاوہ ہری پربت بھی شامل ہے ۔
بنیادی طور پر پہاڑوں پر جانے والے افراد کا آزاد کشمیر کے محکمہ سیاحت اور دیگر اداروں سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا نہ ہی ان افراد کا کوئی ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے۔
لاپتہ ہونے والے کوہ پیما بھی حکومت آزادکشمیر کے کسی ادارے کے ساتھ رابطے کے بغیر ہی اس مہم پر چلے گئے تھے اداروں کو بھی 2015 میں حادثہ کے بعد اس مہم کا علم ہوا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں