عاصمہ بتول نے خدا کی گستاخی پر معافی مانگ لی
آزاد کشمیر کے شہر عباسپور سے تعلق رکھنے والی خاتون سماجی ورکر عاصمہ بتول نے خدا کی مبینہ گستاخی پر معافی مانگ لی۔
عاصمہ بتول کو سوشل میڈیا پر ایک متنازعہ نظم شیئر کرنے پر توہین مذہب کے مقدمے کا سامنا ہے جبکہ جرگہ نے انہیں علاقہ بدر کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔
عاصمہ بتول نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جو نظم شیئر کی وہ لاعلمی کا نتیجہ تھا۔ میں علمائے کرام کی شکرگزار ہوں جنہوں نے میری غلطی کو واضح کیا۔
عاصمہ بتول نے معافی مانگتے ہوئے عہد کیا کہ آئندہ شعائر اسلام اور مقدس ہستیوں کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کروں گی۔ یہ بھی عہد کیا کہ سوشل میڈیا پر ایسی کوئی پوسٹ نہیں کروں گی جس سے دہریت، سیکولر ازم اور بے حیائی کا پہلو نکلتا ہو۔

عاصمہ بتول کی طرح ان کے خاندان کے افراد نے بھی ایک بیان حلفی جمع کراتے ہوئے عہد کیا ہے کہ خاندان کا کوئی فرد آئندہ اس طرح کی گستاخی نہیں کرے گا۔ بیان حلفی کی خلاف ورزی پر علماء اور علاقہ مکینوں کو اختیار ہو گا کہ وہ ہمارا سوشل بائیکاٹ کریں۔

واضح رہے کہ عباس پور کی رہائشی عاصمہ بتول نے بھارتی ریاست کولکتہ میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی خاتون ڈاکٹر سے اظہار ہمدردی کے لئے ایک نظم سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی،یہ نظم پاکستان میں لاتعداد سوشل میڈیا صارفین پہلے بھی شیئر کرچکے تھے، اس نظم کے کچھ اشعار کو بعض صارفین نے خدا کی شان میں گستاخی قرار دیتے ہوئے عاصمہ بتول کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔
اہلسنت والجماعت ضلع پونچھ کے صدر مولانا طاہربشیر نے عاصمہ بتول کے خلاف تھانہ عباسپور میں درخواست دی تھی ۔اس درخواست پر12 دیگر افراد کے بھی دستخط موجود تھے۔ پولیس نے توہین مذہب کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرتے ہوئے عاصمہ بتول کو گرفتار کیا تھا ۔
عاصمہ بتول کے معاملے پر دریاڑ نمبل بالا اور قرب وجوار کے لوگوں نے ایک جرگہ بلایا تھا ۔ جرگہ میں ہونے والے فیصلے کے بارے میں جرگہ میں شریک اکبر نامی شخص نے بتایا کہ ہم سب لوگوں نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ عاصمہ بتول اور ان کی فیملی کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے گا،لڑکی کے والد کومخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ اپنی بیٹی کو علاقہ بدر کردیں تو ہمارے ساتھ رہ سکتے ہیں بصورت دیگر ہر طرح کے سماجی بائیکاٹ کا ہمارا فیصلہ اٹل ہے۔،
اسی سلسلے کا ایک دوسرا مقدمہ راولاکوٹ کے ایک تھانے میں ایک طالبعلم رہنما کے خلاف درج کیا گیا تھا،دونوں مقدمات میں الزامات ایک ہی نوعیت کے ہیں۔
خاتون سٹوڈنٹ رہنما کے بھائی نے بتایا تھا کہ فیس بُک پر پوسٹ کے بعد میری بہن اور ہمیں دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں، لوگ ہمارے آبائی علاقے میں جمع ہو جاتے اور نعرے بازی کرتے۔

علاقے میں خوف کی فضا پیدا کی جا رہی تھی اور اس سبب ان کی بہن نے گرفتاری دے دی کیونکہ ’کم از کم پولیس کی حفاظت میں ان کی جان کو تو خطرہ نہیں ہوگا۔ عاصمہ بتول کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں وہ ہجوم سے خوفزدہ دکھائی دے رہی ہیں اور اپنی سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق وضاحت کررہی ہیں۔
عاصمہ بتول کراچی یونیورسٹی کی طالبہ بھی ہیں ۔ وہ گذشتہ چھ برس سے کراچی اور راولاکوٹ میں سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں کافی متحرک رہی ہیں اور ایک طلبہ تنظیم کی فعال رہنما ہیں۔
طالبعلم رہنما خلیل بابر کا کہنا تھا کہ عاصمہ بتول ایک ’ترقی پسند رہنما اور کارکن ہیں جو عام عوام کے حقوق کے لیے آواز بُلند کرتی رہی ہیں ۔ آزاد کشمیر میں لوگوں کے بنیادی حقوق، بجلی کے بلوں اور مہنگائی کے خلاف چلنے والی کامیاب تحریک میں انھوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اسی بنا پر ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں