شدید بارشیں،مظفرآبادسے نقل مکانی کا حکم،سکولوں میں چھٹی

آزاد کشمیر میں شدید بارشوں کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج اور کئی علاقوں کا رابطہ منقطع ہو کر رہ گیا،دارالحکومت مظفرآباد کے ندی نالوں میں شدیدطغیانی کے بعد لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کردی گئیں جبکہ آج 30 اگست کو تعلیمی اداروں میں بھی تعطیل کااعلان کردیا گیاہے۔
واضح رہے کہ شدید بارشوں کی وجہ مظفرآباد سمیت کئی مقامات پرلینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم رابطہ سڑکیں بند ہیں ۔ دریاؤں ، ندی ، نالوں میں پانی کے سطع غیر معمولی طور پر بلند ہو گئی ہے،مظفرآباد شہر کے گوجرہ نالوں میں شدید طغیانی کے بعد لوگوں کو املاک خالی کرکے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر مظفرآباد کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شدیدبارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے 30 اگست کو بلدیہ کی حدود میں واقع تعلیمی ادارے بند رہیں گے ۔
وادی نیلم میں جاگراں نالہ میں شدید طغیانی کے باعث جاگراں اور کنڈل شاہی پاور ہائوس کو بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی اور ٹیلی فون کا نظام بھی درہم برہم ہے۔
شدید بارشوں سے سب سے زیادہ وادی نیلم متاثر ہوا جہاں مرکزی شاہراہ مختلف مقامات سے لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے بند ہو گئی۔ وادی نیلم کے دریا اور نالوں میں شدید طغیانی ہے نالہ جاگراں میں سیلابی کیفیت کی وجہ سے جاگراں اور کنڈلشاہی میں واقع دو پاور ہاؤس کو احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کردیا گیا ہے۔
وادی نیلم سے سینئرصحافی امیرالدین مغل کے مطابق جاگراں نالہ میں سیلابی پانی کے ساتھ مٹی اور چٹانیں بہہ رہی ہیں جن سے پاور ہاؤسز کو نقصان کا خطرہ ہے۔ پاور ہاؤس بند ہونے سے وادی نیلم میں بجلی ، فون اور انٹرنیٹ کا نظام متاثر ہے۔
آزاد کشمیر کو خیبر پختونخوا سے ملانے والی واحد سڑک مظفرآباد کے قریب لوہار گلی کے مقام سے ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہے، سڑک کو کھولنے کیلئے وقفے وقفے سے کام جاری ہے تاہم مسلسل لینڈ سلائڈنگ سے سڑک کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انتظامیہ نے سیاحوں اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ بارش کے دوران پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کیا جائے جبکہ عوام کو دریاؤں ندی نالوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات اور سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی آزادکشمیر کے مطابق بارش کا سلسلہ 31 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے