متنازعہ نظم پر خاتون کی علاقہ بدری، کشمیر میں جرگہ کا فیصلہ
آزاد کشمیر میں جرگہ نے ایک خاتون کو سوشل میڈیا پر متنازعہ نظم شیئر کرنے پر علاقہ بدر کرنے کا فیصلہ سنادیا۔عباس پور کی رہائشی عاصمہ بتول نے بھارتی ریاست کولکتہ میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی خاتون ڈاکٹر سے اظہار ہمدردی کے لئے ایک نظم سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی،یہ نظم پاکستان میں لاتعداد سوشل میڈیا صارفین پہلے بھی شیئر کرچکے تھے، اس نظم کے کچھ اشعار کو بعض صارفین نے خدا کی شان میں گستاخی قرار دیتے ہوئے عاصمہ بتول کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔

اہلسنت والجماعت ضلع پونچھ کے صدر مولانا طاہربشیر نے عاصمہ بتول کے خلاف تھانہ عباسپور میں درخواست دی ۔اس درخواست پر12 دیگر افراد کے بھی دستخط موجود تھے۔ پولیس نے توہین مذہب کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرتے ہوئے عاصمہ بتول کو گرفتار کرلیا ۔خاتون سماجی ورکرکی گرفتاری کا معاملہ پونچھ ڈویژن میں سوشل میڈیا کے مختلف گروپس میں زیر بحث ہے ۔

اس حوالے سے سردار سہیل کے نام سے بنے ایک اکائونٹ سے ویڈیو کے ذریعے یہ اطلاع دی گئی کہ عاصمہ بتول کے معاملے پر ایک جرگہ ہوا ہے۔ یہ جرگہ حلقہ نمبر دو سراڑی سے منسلک علاقے دریاڑنمبل بالا اور قرب وجوار کے لوگوں نے بلایا تھا ۔ جرگہ میں ہونے والے فیصلے کے بارے میں جرگہ میں شریک اکبر نامی شخص نے بتایا کہ ہم سب لوگوں نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ عاصمہ بتول اور ان کی فیملی کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے گا،لڑکی کے والد کومخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وہ اپنی بیٹی کو علاقہ بدر کردیں تو ہمارے ساتھ رہ سکتے ہیں بصورت دیگر ہر طرح کے سماجی بائیکاٹ کا ہمارا فیصلہ اٹل ہے۔،اسی سلسلے کا ایک دوسرا مقدمہ راولاکوٹ کے ایک تھانے میں ایک طالبعلم رہنما کے خلاف درج کیا گیا ہے تاہم ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوسکی،دوسرے سٹوڈنٹ رہنما کے خلاف درج مقدمے کے مدعی خرم جاوید ہیں،دونوں مقدمات میں الزامات ایک ہی نوعیت کے ہیں۔خاتون سٹوڈنٹ رہنما کے بھائی کے مطابق فیس بُک پر پوسٹ کے بعد میری بہن اور ہمیں دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں، لوگ ہمارے آبائی علاقے میں جمع ہو جاتے اور نعرے بازی کرتے۔علاقے میں خوف کی فضا پیدا کی جا رہی تھی اور اس سبب ان کی بہن نے گرفتاری دے دی کیونکہ ’کم از کم پولیس کی حفاظت میں ان کی جان کو تو خطرہ نہیں ہوگا۔ عاصمہ بتول کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں وہ ہجوم سے خوفزدہ دکھائی دے رہی ہیں اور اپنی سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق وضاحت کررہی ہیں۔

عاصمہ بتول کراچی یونیورسٹی کی طالبہ بھی ہیں ۔ وہ گذشتہ چھ برس سے کراچی اور راولاکوٹ میں سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں کافی متحرک رہی ہیں اور ایک طلبہ تنظیم کی فعال رہنما ہیں۔طالبعلم رہنما خلیل بابر کہتے ہیں کہ عاصمہ بتول ایک ’ترقی پسند رہنما اور کارکن ہیں جو عام عوام کے حقوق کے لیے آواز بُلند کرتی رہی ہیں ۔ آزاد کشمیر میں لوگوں کے بنیادی حقوق، بجلی کے بلوں اور مہنگائی کے خلاف چلنے والی کامیاب تحریک میں انھوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اسی بنا پر ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔اس حوالے سے راولا کوٹ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ریاض مغل کہتے ہیں کہ یہ مقدمات علما کی جانب سے درج کروائے گئے اور اس پر احتجاج بھی ہو رہا ہے۔ہمیں ایسی پوسٹیں کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔ پولیس تفتیش کے دوران شیئر کیے گئے مواد اور ہر چیز کو بہت باریک بینی سے دیکھے گی، اس میں مذہبی لوگوں سے بھی رائے لی جائے گی۔پولیس افسر کا کہنا تھا کہ دونوں طلبہ رہنماؤں کے خلاف مقدمات دفعہ 295 کے تحت نہیں درج کیے گئے بلکہ توہینِ مذہب کی دیگر دفعات 298 اور 489 کے تحت درج کیے گئے ہیں اور اس کے لیے کوئی کمیٹی بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں