مظفر آباد :سرکاری گاڑی میں شاپنگ اور بدمعاشی خاتون کو مہنگی پڑ گئی
رپورٹ: سعید صابری
سرکاری گاڑی میں شاپنگ کرنے والی خاتون کو تاجروں سے لڑائی مہنگی پڑ گئی، مظفرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایکسیئن کو اپنی اہلیہ کی بدتمیزی پربھرے بازار میں تاجروں سے معافی مانگنے کے بعد تھانے جاکر بھی تحریری معافی نامہ جمع کرانا پڑا۔
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں سرکاری گاڑی میں شاپنگ کرنے والی خاتون کی تاجروں سے لڑائی اور بازار میں ہلڑبازی سے شروع ہونے والا تنازعہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ نوبت مظفرآباد کی مصروف ترین مدینہ مارکیٹ میں شٹرڈائون تک جا پہنچی، شٹر ڈائون ہڑتال کا اعلان مرکزی انجمن تاجران مظفرآباد نے کیا تھا یہ تاجروں کی وہی تنظیم ہے جس نے عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے چند ماہ قبل آزادکشمیر میں بجلی بلوں اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کے لئے ایسی تحریک چلائی تھی جس کے سامنے حکومت کو بھی گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔
مظفرآباد کی تاجر برادری اور سول سوسائٹی ایک عرصے سے سرکاری گاڑیوں کے بے جااستعمال کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے اور کئی مواقع پر سرکاری گاڑیوں میں سیر سپاٹے کرنے والی فیملیز کے ساتھ تلخی کی نوبت بھی آئی۔
بدھ کے روز مظفرآباد میں پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں مرکزی انجمن تاجران مظفرآباد کے وائس چیئرمین مشتاق قریشی نے سی ٹی وی نیوز کو بتایا کہ سرکاری گاڑی میں سوار ایک خاتون نے بازار سے گزرتے ہوئے اس قدر زور سے ہارن بجائے کہ وہاں موجود تمام افراد گاڑی کی طرف متوجہ ہوگئے ، بار بار ہارن دینے پر ہی لوگوں کو غصہ آیا اور پھر ایک تاجر نے گاڑی کے پاس جا کرہارن بجانے سے منع کیا اس پر گاڑی میں موجود خاتون نے گالیاں اور دھمکیاں دینا شروع کردیں۔
مشتاق قریشی بتاتے ہیں کہ یہ معاملہ مذکورہ خاتون کے شوہر جو سرکاری افسر ہیں ان کی طرف سے معذرت کرنے پر موقع پر ہی رفع دفع کردیا گیا تھا لیکن جب خاتون نے تھانے میں درخواست دی تو تاجر مشتعل ہو گئے اور ہڑتال کی کال دے دی ۔

ہڑتال کااعلان ہوتے ہی سوشل میڈیا پر بھی لوگوں نے اس معاملے کوموضوع بحث بنا لیا جس کے بعد خاتون کے شوہر نے تھانہ سٹی پہنچ کر معافی نامہ جمع کروایا اور تاجربرادری کی بھی منت سماجت کرکے جان بخشی کرائی۔
مرکزی انجمن تاجران کے سینئر وائس چیئرمین گوہر احمد کشمیری کے مطابق بھی معاملہ موقع پرہی ختم ہوگیا تھا لیکن جب پولیس تاجروں کو گرفتار کرنے آئی تو پھر سب تاجر اکٹھے ہوگئے ، گوہر احمد کشمیری نے ویڈیو بیان میں کہا کہ ہم عوام کے خادم ہیں لیکن اس طرح کسی کو غنڈہ گردی نہیں کرنے دیں گے۔

ایم ڈی اے کے ایکسیئن طاہر رشید نے تھانے سے تو معافی تلافی کے ذریعے جان چھڑائی مگر سوشل میڈیا پر لوگ اب بھی یہ معاملہ اٹھا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کے مختلف پیجز،گروپس اور صارفین کی ذاتی اکائونٹس کے ذریعے ہزاروں کی تعداد میں صارفین اس بحث سے جڑے ہوئے ہیں ۔
محمد عرفان نامی صارف نے لکھا تمام تاجر بدتمیز لوگوں سے یہی سلوک کریں ۔یہ چوری بھی کرتے ہیں اور سینہ زوری بھی ۔
عقیل احمد نے لکھاسرکاری گاڑیاں بند ہونی چاہئیں۔ آفتاب احمد بولے دفتری اوقات کے بعد جس سرکاری گاڑی میں کوئی نظر آئے اسے روک لینا چاہئے ۔
راجہ طاہر ریاض نے کہا کہ تاجروں کے اس اقدام کی تعریف کرنی چاہیے تاکہ عوام سرکاری پیسہ دھوئیں کی طرح اڑانے والے مزید لوگوں کا ریمانڈ لے سکیں۔
تیزیل عباسی نے لکھا خاتون نے سوچا ہوگا یہ پنجاب ہے بعد میں پتہ چلا کہ نہیں یہ تو مظفرآباد ہے۔راجہ پرویزاختر منہاس نے لکھاشاپنگ کرنی ہے تو اپنی گاڑی لے کر کریں سرکاری گاڑی میں آکر بدمعاشی اب کوئی نہیں مانے گا۔ارشد ترین نے توجہ دلائی کہ بات سرکاری یا پرائیویٹ کی نہیں،دن کے وقت مدینہ مارکیٹ میں کوئی بھی گاڑی آتی ہے تو بدنظمی ہوتی ہے ، غلط پارکنگ اور ہماری جہالت کی وجہ سے ایسے واقعات ہوتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں