وادی نیلم کی مقامی زبانیں معدومی کے خطرے سے دوچار


آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی نیلم میں بولی جانے والی قدیمی زبانیں معدومی کی آخری حدوں تک پہنچ گئیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان زبانوں کو دستاویزی شکل نہ دی گئی توشائد ایک دہائی بعد کچھ مقامی زبانیں مکمل طورپر متروک ہو جائیں۔ نیلم رقبے کے اعتبار سے آزاد کشمیر کا سب سے بڑا ضلع ہے اسے ضلع کا درجہ 2005 میں دیا گیا اس سے قبل وادی نیلم ضلع مظفرآباد کی تحصیل اٹھمقام میں شامل تھی ۔ وادی نیلم دلکشی اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے یہاں پہاڑ، میدان، وادیاں، جھیلیں ندی نالے دریا اور چشمے واقعی ایک جنت کا منظر پیش کرتے ہیں ۔
نیلم کا پرانا نام دراوہ تھا 1956 میں آزاد کشمیر حکومت کی کابینہ نے کشن گنگا کا نام تبدیل کرکے دریائے نیلم اور دراوہ کا نام وادی نیلم رکھا تھا۔ضلع نیلم لسانی اور قبائلی تنوع کے حوالے سے خاصا زرخیز علاقہ ہے ۔ وادی نیلم میں مختلف ذات اوربرادریوں کے لوگ آباد ہیں جن میں مغل،بٹ، گجر، داردک، نانترے، ماگرے، لون، خواجہ، سید، یوسفزئی اور سواتی منہاس شامل ہیں۔ زبانوں کی بات کی جائے تو اس لحاظ سے وادی نیلم انتہائی دلچسپ خطہ ہے اورزبانوں پر تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ خطہ معلومات کا ایک خزانہ ہے ۔
پریس فار پیس پبلی کیشنزکے لئے لکھنے والے مرزا فرقان حنیف کہتے ہیں وادی نیلم میں شینا ،کشمیری، گوجری، پشتو، اور کنڈل شاہی بولی جاتی ہے ۔ کنڈل شاہی علاقہ کنڈل شاہی میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کو معدومی کا خطرہ لاحق ہے۔ کنڈل شاہی میں اس زبان کو بولنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے۔ یہ لوگ بھی اب ہندکو زبان بولتے ہیں ۔ نیلم میں شینا دو قسم کی بولی جاتی ہے۔ گریسی شینا اور چلاسی شینا۔ گریسی شینا تائو بٹ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بولی جاتی ہے جبکہ چلاسی شینا علاقہ پھولوائی میں بولی جاتی ہے۔ ضلع نیلم میں گوجری بھی بولی جاتی ہے مگر یہ زبان بھی نیلم میں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے ۔ گجر خاندان مرناٹ، اشکوٹ، جاگراں، کٹن، کھریگام میں بڑی تعداد میں آباد ہیں لیکن یہ لوگ بھی اب ہندکو بولتے ہیں البتہ کچھ گھروں میں آج بھی گوجری بولی جاتی ہے۔ وادی نیلم میں ایک بڑی تعداد کشمیری بولنے والوں کی ہے۔ نیلم میں بولی جانے والی کشمیری مظفرآباد میں بولی جانے والی کشمیری سے مختلف ہے۔ اس کے علاوہ ڈھکی اور چنگناڑ کے علاقوں میں پشتو بولنے والے لوگ بھی ہیں۔ مگر یہ لوگ اسے پشتو کی بجائے پختو کہتے ہیں۔ زبانوں کی معدومی کے خطرے سے متعلق آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کی رجسٹرار کے عہدے پر فائز رہنے والی ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر عائشہ سہیل کہتی ہیں وادی نیلم اور اس طرح کے دیگر ملحقہ علاقوں میں بولی جانے والی زیادہ تر زبانیں غیر دستاویزی ہیں، ان کی کوئی گرامر یا لغت نہیں ہے اور یہ اسکولوں میں بھی نہیں پڑھائی جاتی ہیں۔ ان زبانوں کے بولنے والے اردو اور انگریزی زبانوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہماری قیمتی ثقافت، روایات اور مقامی اقدار کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ علاقائی زبانوں کو درپیش خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے بچائو کے لئے کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے ۔

 

ڈاکٹرعائشہ سہیل کا کہنا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان اپنی مقامی زبانوں کے فروغ اور انہیں دستاویزی صورت میں لانے کے ذریعے اپنے ورثے، مظاہرِ فطرت اور ثقافتی تنوع کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومتی سرپرستی کے خواہاں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے میں بلاتاخیر عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
ماہر لسانیات فخرالدین کے مطابق آزاد کشمیر کے ضلع نیلم اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بولی جانے والی زبانیں ختم ہونے کے قریب ہیں۔ ماہرینِ لسانیات کا کہنا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں اس وقت چھ ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے لگ بھگ تین ہزاراس صدی کے اختتام تک صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق صرف براعظم ہائے شمالی و جنوبی امریکہ کی 800 میں سے 500 قدیم بولیاں اور زبانیں یا تو فنا ہوچکی ہیں یا معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ان زبانوں میں سے اکثر کے بولنے اور لکھنے والے محض چند ہی لوگ دنیا میں باقی بچے ہیں ۔ اگر ان زبانوں کو محفوظ رکھنے اور نوجوان نسل تک منتقل کرنے کی محکمہ جاتی اور منظم کوششیں نہ کی گئیں تو یہ جلد ہی ماضی کا قصہ بن جائیں گی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے