سیلاب متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 37واں اجلاس وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سیلاب متاثرین کے لیے پہلے سے مختص تین ارب روپے کے علاوہ مزید دو ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔

اجلاس کا آغاز سیلاب میں جاں بحق افراد کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور درجات کی بلندی کی دعا سے کیا گیا۔کابینہ کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات، ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی بہترین کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں اور محکموں نے بروقت اور مؤثر انداز میں ریسکیو آپریشن مکمل کیا ہے، تاہم لاپتا افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ شہدا کے اہل خانہ اور زخمیوں کو معاوضوں کی ادائیگی جاری ہے، کسی متاثرہ شخص کو محروم نہیں رکھا جائے گا۔انہوں نے ہدایت دی کہ متاثرہ علاقوں میں مراکز صحت فوری طور پر فعال کیے جائیں، موبائل ہسپتال فراہم کیے جائیں اور ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے تاکہ وبائی امراض کے خدشے سے نمٹا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ متاثرہ علاقوں میں مال مویشیوں کے لیے چارہ فراہم کیا جائے اور بیماریوں سے بچاؤ کے اقدامات کیے جائیں۔صفائی کے لیے خصوصی مہم شروع کرنے اور پینے کے پانی کے ذرائع جیسے ٹیوب ویلز کی فوری بحالی کی بھی ہدایت کی گئی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت سیلاب متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ عوام کی طرف سے حکومت سے رابطے اور عطیات کی پیشکش کے پیش نظر ایک خصوصی اکاؤنٹ قائم کیا جا رہا ہے تاکہ امداد شفاف انداز میں مستحقین تک پہنچ سکے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے