صحافی خاورکا دوبارہ پوسٹ مارٹم مکمل،تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا
سانگھڑ میں گاڑی میں مردہ پائے گئے صحافی خاور حسین کی لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر وسیم خان نے کہا فائنل رپورٹ سے پہلے صحافی کی خودکشی یا قتل کے حوالے سے کوئی رائے نہیں دے سکتا۔
پولیس سرجن نے بتایا کہ فارنزک ایکسپرٹ سمیت میڈیکل بورڈ 3 افراد پر مشتمل ہے، کچھ نمونے لیے ہیں، اب رپورٹ آئے گی تو رائے قائم کی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹر وسیم خان کا کہنا تھا کہ خاور حسین کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا، دوبارہ کیے گئے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ ایک دو دن میں جاری کریں گے۔
خاور حسین کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا بہت دلیر انسان تھا وہ خود کو گولی نہیں مارسکتا۔صحافی کے والدنے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بیٹے کی موت قتل ہے جب کہ ہمارا کسی سے کوئی تنازع یا جھگڑا نہیں تھا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں