پشاور ہائیکورٹ: عمر ایوب اور شبلی فراز کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ چیلنج

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما عمر ایوب اور سینیٹر شبلی فراز نے الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر قانونی، غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں سنے بغیر ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ جاری کیا، جو کہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ ہمیں صفائی کا موقع دیے بغیر فیصلہ سنایا گیا، جو غیر قانونی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے کئی اہم رہنماؤں سمیت 9 ارکانِ پارلیمنٹ کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ اس فیصلے میں سینیٹر شبلی فراز، رکن قومی اسمبلی عمر ایوب اور دیگر شامل ہیں جنہیں 9 مئی کے مقدمات میں سزائیں سنائے جانے کے بعد ڈی نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نااہل قرار دیے گئے افراد میں قومی اسمبلی کے 5، پنجاب اسمبلی کے 3 ارکان اور ایک سینیٹر شامل ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے