مناسک حج کا آغاز کل سے، پاکستانی عازمین کی منی روانگی آج سے شروع،تمام انتظامات مکمل
حج 2025 کے سلسلے میں پاکستان سے آئے 88 ہزار 301 سرکاری اور 27 ہزار 12 نجی اسکیم کے تحت رجسٹرڈ عازمین حج آج شب احرام باندھ کر اپنے رہائش مقامات عزیزیہ، نسیم اور بطحا قریش سے منیٰ روانہ ہوں گے۔
ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق پاکستانی عازمین کو سعودی سرکاری کمپنی سے 442 بسیں مہیا کی گئی ہیں، جب کہ حج مشن نے اضافی سہولت کے لیے نجی کمپنی سے 510 مزید بسیں حاصل کی ہیں۔ ان بسوں کے ذریعے پاکستانی حجاج کو منیٰ منتقل کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق منیٰ روانگی کا عمل آج رات عشاء کے بعد شروع ہو گا اور کل دن ظہر تک جاری رہے گا۔
احرام و نیت: تمام عازمین اپنی رہائشگاہ سے احرام باندھیں گے، دو رکعت نفل ادا کر کے حج کی نیت کریں گے۔8 ذوالحجہ (یوم الترویہ): منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کی جائیں گی۔9 ذوالحجہ: عازمین وقوف عرفہ کے لیے میدان عرفات روانہ ہوں گے، جہاں حج کا خطبہ سننے کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کی جائیں گی۔مغرب کے وقت بغیر نماز پڑھے مزدلفہ روانگی ہوگی، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر ادا کی جائیں گی۔10 ذوالحجہ: رات مزدلفہ میں کھلے آسمان تلے گزارنے کے بعد حجاج رمی جمرات کے لیے منیٰ روانہ ہوں گے، بڑے شیطان کو 7 کنکریاں مار کر قربانی دیں گے، اور حلق کے بعد احرام کھول دیا جائے گا۔11 ذوالحجہ: تینوں شیطانوں (چھوٹے، درمیانے، بڑے) کو سات سات کنکریاں ماری جائیں گی۔12 ذوالحجہ: زوال آفتاب کے بعد پھر سے تینوں جمرات پر رمی کی جائے گی۔ کچھ حجاج اسی روز مکہ واپس روانہ ہوں گے۔13 ذوالحجہ: باقی حجاج رمی مکمل کر کے منیٰ سے مکہ مکرمہ واپس آئیں گے۔
ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق مشاعر کے دوران 25 ہزار 861 عازمین بسوں کے ذریعے سفر کریں گے جبکہ 62 ہزار پاکستانی حجاج ٹرین کے ذریعے منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کا سفر کریں گے۔
جمرات سے خانہ کعبہ کی جانب روانگی کے لیے 4 کلومیٹر طویل سرنگی راستہ استعمال کیا جائے گا، جب کہ سعودی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ شٹل سروس بھی دستیاب ہوگی۔
ترجمان نے بتایا کہ تمام انتظامات وزارت مذہبی امور، سعودی حکام اور نجی کمپنیوں کے باہمی اشتراک سے مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ پاکستانی عازمین کو حج کے مقدس مناسک کی ادائیگی میں کسی قسم کی دقت نہ ہو۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں