ڈویژنل اسپتال میرپور علاج کے بجائے آزمائش بن گیا ،غریب مریض فیسوں کے بوجھ تلے دب گئے

آزاد کشمیر کا سب سے بڑا سرکاری طبی ادارہ، ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میرپور، جہاں سالانہ بجٹ 85 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے، اب عوام کے لیے سہولت کے بجائے پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے مختلف ٹیسٹوں اور سہولیات کی فیسوں میں ہوشربا اضافے نے غریب مریضوں کے لیے علاج کو ناممکن بنا دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، جہاں سرکاری نرخنامے کے مطابق ایکو ٹیسٹ کی فیس 50 روپے اور ای ٹی ٹی کی 200 روپے ہے، وہیں ہسپتال انتظامیہ بالترتیب 1000 اور 800 روپے وصول کر رہی ہے۔ اس اضافی فیس کو ’’ہسپتال بہتری فنڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے، مگر عوامی حلقوں میں اسے کھلی لوٹ مار قرار دیا جا رہا ہے۔

ہسپتال انتظامیہ نے نہ صرف لیبارٹری اور تشخیصی ٹیسٹوں کی قیمتیں بڑھائیں، بلکہ او پی ڈی، بیڈ، ایڈمیشن، اور آپریشن فیسیں بھی کئی گنا بڑھا دی گئی ہیں:او پی ڈی فیس: 25 سے بڑھا کر 40 روپےبیڈ فیس: 10 سے بڑھا کر 30 روپےایڈمیشن فیس: 400 روپےبڑے آپریشن کی فیس: 500 سے بڑھا کر 720 روپےچھوٹے آپریشن کی فیس: 250 سے 350 روپے

لیبارٹری ٹیسٹ بھی غریب مریضوں کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں، عام ایکسرے کی فیس 250 روپے، خصوصی ایکسرے 650، ای سی جی 50، اور بلڈ ٹیسٹ 120 روپے میں کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، ایف این اے، بون میرو، اور ہسٹوپیتھالوجی جیسے جدید ٹیسٹوں کی فیس 800 سے 1000 روپے تک وصول کی جا رہی ہے۔

قابل ذکر امر یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے فیسوں میں کمی کے احکامات جاری کیے گئے تھے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے، مگر ہسپتال انتظامیہ نے ان احکامات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے خود ساختہ نرخ نافذ کر دیے ہیں۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عامر عزیز سے جب اس حوالے سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے واضح جواب دینے سے گریز کیا اور صرف اتنا کہا کہ:
"ہسپتال آ کر متعلقہ افراد سے ملاقات کی جائے تو صورتحال واضح ہو جائے گی۔”

ہسپتال کی اس پالیسی پر عوامی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ غریب مریض جن کے لیے یہ ہسپتال آخری امید تھی، اب وہ بھی مہنگی فیسوں کے باعث نجی ہسپتالوں یا نیم حکیموں کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے فوری مداخلت اور ہسپتال میں کرپشن و بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے