کم عمری کی شادی:بل مذہب سے متصادم قرار دینا بچوں کے حقوق کی نفی ہے: انسانی حقوق کمیشن

انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے کم عمری کی شادی  کے منظور کیے گئے بل سے متعلق  اسلامی نظریاتی کونسل کے اعتراض پر  تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق بچپن کی شادی کے خلاف بل بچوں کے تحفظ کےلیے ناگزیر ہے، پارلیمنٹ سےمنظوربل کو مذہب سے متصادم قرار دینا بچوں کےحقوق کی نفی ہے۔ایچ آر سی پی کے مطابق  بچیوں کے استحصال کی روک تھام کےلیے قانون پر فوری عملدرآمد ضروری ہے لہٰذا  بچوں کے تحفظ کو مذہبی تنازع نہ بنایا جائے اور  کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اور بچوں کے تحفظ کےلیے ریاست آئینی و بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان  کا کہنا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے بل میں رکاوٹ ڈالنے پر شدید تحفظات ہیں، یکطرفہ مذہبی تشریحات قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ایچ آر سی پی کا مزید کہنا ہے کہ بچپن کی شادی کا خاتمہ قانونی اور اخلاقی تقاضا ہے،بچوں کے تحفظ کا وعدہ پورا کیا جائے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے