دیپک نیگی عرف باہوٹ بلوچ بھارت کا ہائبرڈ میڈیا وارفیئر نیٹ ورک بے نقاب
بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران سوشل میڈیا پر چلنے والے بیانیوں اور جذباتی ویڈیوز کے پیچھے ایک نیا نام سامنے آیا ہے — "باہوٹ بلوچ”۔ اب سیکیورٹی ذرائع اور انٹیلیجنس رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نقاب پوش آن لائن کردار کے پیچھے موجود شخص کا اصل نام دیپک نیگی ہے، جو بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع رودرپریاگ کے ایک گاؤں بائیلہ سے تعلق رکھتا ہے۔
دیپک نیگی نے 2012 میں دہلی یونیورسٹی سے لسانیات میں گریڈ فرسٹ حاصل کیا، اور بتایا جاتا ہے کہ وہ ہندی، پنجابی، بلوچی، پشتو، فارسی، عربی، تامل اور انگریزی سمیت کئی زبانوں پر عبور رکھتا ہے۔ انہی قابلیتوں کے باعث اسے مبینہ طور پر بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW کے میڈیا ونگ میں شامل کیا گیا، جہاں اسے "بلوچ تھیٹر” کے لیے ڈیجیٹل آپریشنز میں تعینات کیا گیا۔
جون 2021 میں دیپک نے @bahot_baluch کے نام سے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ بنایا، جس پر وہ نقاب پوش ویڈیوز، گمراہ کن انفوگرافکس، اور جذباتی بیانیے پر مبنی مواد شیئر کرتا رہا۔ 21 مئی 2025 کو خضدار اسکول بس دھماکے کی فوٹیج سب سے پہلے اسی اکاؤنٹ پر نشر ہوئی — پاکستانی میڈیا نے واقعہ 23 منٹ بعد رپورٹ کیا۔
سائبر ونگ کی رپورٹ CWB-PK/2025-Q2 کے مطابق اس اکاؤنٹ کے بیک اپ سرورز نئی دہلی کے DEFENSE-NET IX ڈیٹا سینٹر سے لنکڈ ہیں۔ مزید برآں، مارچ 2025 میں مجید بریگیڈ کے ہلاک شدہ کمانڈر ریاض بلوچ کے قبضے سے حاصل کردہ ایک لیپ ٹاپ میں دیپک نیگی کے ساتھ پانچ ویڈیو کالز اور 17 خفیہ چیٹ لاگز پائے گئے، جن میں خضدار، نوشکی اور کیچ حملوں کی "پری ریلیز PR اسکرپٹس” طے کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق دیپک نیگی کسی بھی حملے کے 10 سے 15 منٹ کے اندر لو-ریزولوشن ویڈیوز نشر کرتا ہے تاکہ حقائق کے بجائے جذباتی اثر غالب آ جائے۔ اس کے بعد ایک منظم بوٹ نیٹ سسٹم کے ذریعے اردو، انگلش، بلوچی، فارسی اور عربی زبانوں میں پاکستان مخالف ہیش ٹیگز کو ٹرینڈ کروایا جاتا ہے۔
یورپین ڈس انفو لیب (EDL) کی فیکٹ شیٹ FS-298/25 میں بھی دیپک نیگی کے زیر اثر چلنے والے نیٹ ورک BalochistanFacts کو 1175 بھارتی نژاد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ساتھ Coordinated Disinformation Campaign قرار دیا گیا ہے۔
دیپک کا تعلق گڑھوال کی نیگی راجپوت برادری سے ہے جسے مقامی طور پر "بارڈر گارڈز” بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا تایا صوبیدار کیلاش چندر نیگی کارگل جنگ میں تعینات تھا، جبکہ اس کا بھائی منوج نیگی بھارتی فوج کی 25ویں راجپوت رجمنٹ میں سگنلنگ ٹیکنیشن ہے۔ اندرونی آرمی سرکولر GHQ-IND/Circ-158-A میں نیگی خاندان کو "رضاکار اطلاعاتی معاون” قرار دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ دیپک نیگی عرف باہوٹ بلوچ صرف ایک انفرادی کردار نہیں، بلکہ اس ہائبرڈ وارفیئر حکمت عملی کا استعارہ ہے جس میں بندوق کی بجائے ڈیجیٹل بیانئے کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔بلوچستان کی دھرتی پر بہنے والا بے گناہ خون اس پروپیگنڈا یاترا کے چہرے پر وہ داغ ہے جو ماسک، بوٹ نیٹ اور ڈیپ فیک سے نہیں چھپایا جا سکتا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں