جو قومیں آزادی کی قدر نہیں کرتی تاریخ ان کا حشر نشر کردیتی ہے، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق
آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی میں فرسودہ نظام تعلیم کے ساتھ باوقار زندگی ممکن نہیں۔ ہمیں تعلیم کے میدان میں اصلاحات اور جدت کی ضرورت ہے۔ موجودہ سٹیٹس کو کے ساتھ ہم ترقی نہیں کرسکتے۔بچوں کو معیاری تعلیم دے کر ساری دنیا میں مقابلے کے لیے تیار کرنا ہوگا۔گزشتہ 21ماہ میں جس حد تک میرٹ کو یقینی بنا سکتا تھا میں نے کیا۔معاشرے کی بہتری کے لیے ہم سب کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔جو قومیں آزادی کی قدر نہیں کرتی تاریخ ان کا حشر نشر کردیتی ہے۔سفارتی،سیاسی،اخلاقی حمایت سے بڑھ کر عملی جدوجہد کا وقت آگیا۔اپنے مقبوضہ کشمیر کے بہن،بھائیوں کی آزادی کے لیے خونی لکیر بھی عبور کرلیں گے۔خاکی وردی والے اپنی جان کی قربانی دے کر ہمارے جان ومال آزادی کا تحفظ کررہے ہیں۔قومی پرچم میں مدفون ہونے والے یہ محافظ کشمیر سے نہیں بلکہ خیبر پختون خواہ،پنجاب،سندھ،بلوچستان اور گلگت سے ہیں ان کی قربانیوں پر اٹھنے والی انگلی توڑکر رکھ دیں گے۔آزادکشمیر بھر کے یتیم طلبا و طالبات بورڈ کی رجسٹریشن اور امتحانی فیس سے مستثنیٰ ہوں گے ۔جس بچے کے پیپر مارکنگ میں غلطی بورڈ یا ممتحن کی پائی گئی تو بورڈ پیپر مارکنگ کی فیس اور گیارہ گنا جرمانہ بچے کو واپس پہنچائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزاد جموں و کشمیر انٹر میڈیٹ و ثانوی تعلیمی بورڈ میرپور کی سالانہ تقریب تقسیم تمغہ جات و اعزازات سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کی صدارت چیئرمین تعلیمی بورڈ پروفیسر ڈاکٹر نذر حسین چوہدری نے کی جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سیکرٹری بورڈ پروفیسر سردار لئیق خان نے سرانجام دیئے۔ تقریب سے آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم دیوان علی چغتائی، وزیر حکومت میاں عبد الوحید،چوہدری یاسر سلطان،مشیر برائے وزیراعظم کرنل ریٹائرڈ محمد معروف خان،کنٹرولر امتحانات کالجز قاری محمد مشتاق ملک نے خطاب کیا۔ چیئرمین تعلیمی بورڈ نے سپاسنامہ پیش کیا۔تقریب میں وزراء حکومت کرنل وقار احمد نور چوہدری ارشد حسین، چوہدری اظہر صادق، چوہدری محمد اخلاق،چوہدری اکبر ابراہیم،معاون خصوصی محترمہ صبیحہ صدیق،وائس چانسلر مسٹ،سیکرٹریز حکومت،تعلیمی اداروں کے سربراہان، ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ،نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات ان کے والدین نے شرکت کی۔وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے امتحان ثانوی و انٹرمیڈیٹ سال 2023-24 میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات میں تمغہ جات،اعزازات و انعامات تقسیم کیے اور اول،دوئم اور سوئم آنے والے طلبا و طالبات کے لیے پچیس،بائیس اور بیس ہزار روپے کے نقد انعامات کا بھی اعلان کیا۔انھوں نے بورڈ ملازمین کے لیے بونس کی منظوری بھی دی۔وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے بورڈ کے پانی کے مسئلہ کے حل کے لیے ٹیوب ویل کی تنصیب کے لیے گرانٹ کا اعلان بھی کیا۔ چیئرمین تعلیمی بورڈ پروفیسر ڈاکٹر نذر حسین چوہدری نے بورڈ کی ترقی اور امتحانی نظام میں لائی جانے والی اصلاحات اور بورڈ کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔کنٹرولر امتحانات کالجز قاری محمد مشتاق ملک نے تلاوت کلام پاک اور نعت شریف پڑھیں۔تقریب میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانے پیش کیے گے جبکہ عبرینہ مقبول نے کشمیری نغمہ اور کلام اقبال پیش کرکے سامعین سے خوب داد حاصل کی۔
وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا کہ جس منصب پر تعینات ہوں کوشش ہے کہ معاشرے سے بری روایات،جمود اورسٹیٹس کوختم کردوں۔جب قومیں ہجوم میں تبدیل ہوجائیں تو بھیڑ چال عام رواج بن جاتا ہے۔سٹیٹس کو ہمیں پرتعیش زندگی گزارنے کا موقع تو دیتا ہے مگر ہماری نئی نسل کے لیے مسائل پیدا کرے ان کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع ختم کردیتا ہے۔ میں بطور وزیر اعظم ریاست کے وسائل پر اپنی اولاد سے بڑھ کر نظر رکھتا ہوں اور سوچ سمجھ کر خرچ کرتا ہوں۔ انھوں نے کہاکہ پیپر مارکنگ کے سلسلہ میں آئندہ راولاکوٹ یا مظفرآباد کا کوئی طالب علم میرپور نہیں آئے گا۔بورڈ کے علاقائی دفاتر میں موجود ایل سی ڈی پر ہی طلبا و طالبات کو ان کے پرچے دیکھائے جائیں۔پیپر مارکنگ کا واضح قانون موجود ہے کوئی معلم یا معلمہ بورڈ کی طرف سے تفویض کردہ پیپر مارکنگ کی ڈیوٹی سے انکار نہیں کرسکتے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو سیکرٹری سکولز اور سیکرٹری کالجز اس کا نوٹس لے کر تادیبی کاروائی کریں۔انھوں نے کہاکہ بورڈ کی کسی غلطی کی وجہ سے سفید پوش والدین کے بچوں کی تعلیم کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔آزادجموں وکشمیر کے تمام سکولوں،کالجوں میں پڑھنے والے تمام یتیم بچے،بچیاں بورڈ کی امتحانی اور رجسٹریشن فیس سے مستثنیٰ ہوں گے اگر پیپر مارکنگ کی درخواست پر یہ ثابت ہوجائے کہ غلطی بورڈ یا پیپر مارکنگ والے ممتحن کی ہے تو تعلیمی بورڈ طالب علم کو پیپر مارکنگ کی فیس اور اس کے ساتھ 11گنا جرمانہ واپس اس کے گھر پہنچائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:میرپور آزاد کشمیر میں مدرسے کے اسٹور روم سے بچے کی لاش برآمد
چوہدری انوار الحق نے کہا کہ ہماری پاس جتنی آزادی اور منصب ہے وہ سب مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں اور ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کا نیتجہ ہے اب وقت آچکا ہے کہ ہمیں جملہ بازی سے آگے نکل کرآزادی کی جدوجہد کرنی ہے۔سیاسی سفارتی،اخلاقی حمایت سے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے آزادی کے لیے اب انگلی نہیں بلکہ گردن کٹانے کا وقت آگیا ہے اب اس پر کوئی معذرت خوانہ انداز نہیں اپنانا۔انھوں نے کہاکہ پاکستانی فوج ہماری محافظ فوج ہے جس کی قربانیوں سے ہماری آزادی برقرار ہے اور ہم پرسکون زندگی بسر کررہے ہیں۔ہمارے تمام وسائل اور طاقت مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے وقف ہیں۔وزیر اعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق نے کہاکہ ریاست اشرافیہ کی لمبی چوڑی گاڑیوں یا مصنوعی چمک دمک سے نہیں بلکہ آدمی کے عزت نفس اور اس کے جان و مال کے تحفظ سے باوقار ہوگی۔خونی لکیر کے اس پار اس کی تقریبات کا کوئی تصور نہیں وہاں بچے والدین کی لاشوں پر اس طرح کھڑے ہوتے ہیں کہ وہ منظر دل کو پھاڑ دیتا ہے۔بھارتی مقبوضہ کشمیر میں خوف،جبر اور ظلم اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ انسانی جذبات ختم ہوکر رہ گئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اپنی والدہ محترمہ کی اس نصیحت پر ہمیشہ عمل کرنے کی کوشش کی کہ جب تک زندگی ہو نیکی اور بھلائی کے لیے اپنے حصہ کی شمع ضرور روشن کریں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں