5 فروری یوم یکجہتی کشمیر جدید تقاضے

تحریر:سردار عبدالخالق وصی

5 فروری یوم یکجہتی کشمیر بنیادی طور پر اھل پاکستان کا اھلیان کشمیر سے یکجہتی کا دن ھے بلکہ اگر اس دن کے پس منظر کو دیکھا جائے تو مسلمانان ھند اور بالخصوص وہ علاقے جو بعد میں پاکستان کا حصہ بنے انکی کشمیریوں سے محبت اور کمٹمنٹ ھمیشہ مسلسل، متواتر، انمٹ، غیر متزلزل اور لازوال رھی ھے۔
کشمیریوں پر جب بھی کوئی افتاد آتی اس خطہ کے لوگ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے،انکی مدد کرتے اور انہیں حوصلہ دیتے۔
ان واقعات کی تاریخ کا اگر بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو یہ تفصیل ایک مقالہ کی صورت اختیار کر جاتی ہے جسکا احاطہ ایک کالم یا اخباری مضمون میں ممکن ھے نا مناسب کہ اخبارات کی گنجائش محدود ھوتی ھے اس کے لئے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ھے۔
اجمالی طور پر 1931 میں جب ریاست جموں وکشمیر میں ڈوگرہ مہاراجہ ھری سنگھ کے مظالم اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کی تحریک چلی جس کے نتیجے میں 22 افراد نے سری نگر میں جام شہادت نوش فرمایا اس تحریک کو سیاسی کمک لاھور سیالکوٹ اور دیگر علاقوں سے ملی ان میں علامہ اقبال علیہ الرحمہ کا اسم گرامی سر فہرست تھا اس میں دیگر قائدین بھی شامل رھے انہوں نے اس دور میں کشمیریوں کی مالی اور سیاسی مدد کی یہاں تک کہ کشمیریوں کی مدد کے لئے وکلاء کی خدمات بھی فراھم کیں جسکے نتیجے میں کشمیر میں گلینسی کمیشن کا قیام اور 1934 میں پہلی قانون ساز اسمبلی/پرجا سبھا کا وجود عمل میں آیا جو تقسیم ھند کے بعد آزاد جموں وکشمیر میں تو ختم ھو گیا اور دوبارہ 1970 میں قانون ساز اسمبلی کا قیام عمل میں آیا جو بعد میں صدارتی نظام سے پارلیمانی نظام میں تبدیل ھوا اور اسوقت تک الحمدللہ جاری ھے، البتہ مقبوضہ کشمیر میں نام کی تبدیلی سے اسمبلی کا وجود موجود رھا۔
قائد اعظم محمد علی جناح جب 1944 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کے طور پر طویل دورے پر کشمیرگئے تو انہوں نے وھاں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے سیاسی اجلاس و اجتماع بھی کئے اور کشمیریوں کو برصغیر کے دس کروڑ مسلمانوں کی جانب سے مکمل حمایت اور یکجہتی کا یقین دلایا اور کہا کہ برصغیر کے دس کروڑ مسلمان آپکی پشت پر ھیں۔
1947 سے لیکر آج تک اھل پاکستان، پاکستان کی حکومتیں،قبائلی لشکر، افواج پاکستان تسلسل کے ساتھ کشمیریوں کی تحریک حق خود ارادیت کے ساتھ ھیں اور سیاسی و سفارتی سطح پر واحد پاکستان ھی ھے جو کشمیریوں کی پر زور حمایت کرتا ھے۔
جنرل ایوب خان کی سیاست میں مداخلت اور نظریاتی اختلافات کے باوجود بطور کمانڈر انچیف یہ کہنا کہ سب کشمیر کو بھول بھی جائیں پاکستان کی افواج کبھی بھی کشمیر کو نہیں بھول سکتی افواج پاکستان کی ترجمانی اور افواج پاکستان کی کشمیر سے کمٹمنٹ و پالیسی کو واضع کرتا ھے اسکے بعد آنے والے ادوار میں بھی پاکستان کی افواج نے ھمیشہ کشمیریوں کو نہ صرف یاد رکھا بلکہ جنرل یحیٰی خان جیسے بدنام زمانہ جنرل نے آزادکشمیر افواج کو پاکستان افواج کے ھم پلہ کیا جسکے نتیجے میں آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے جنرلز چئیرمین چیفس آف آرمی سٹاف کمیٹی کے سب سے بڑا عہدہ،سکریٹری ڈیفنس، اور اسوقت بھی دو کور کمانڈروں،ڈی جی ایم آئی اور اھم عہدوں پر تعینات جنرلز کا تعلق آزاد جموں وکشمیر سے ھے اس چھوٹے سے خطے آزاد کشمیر سے درجنوں جنرلز کا تعلق یقینا ایک بڑے اعزاز و افتخار کی بات ھے۔ اسکے مقابلے میں مقبوضہ کشمیر آبادی و رقبے میں ھم سے کہیں گنا بڑا ھونے کے باوجود وھاں کشمیریوں کی انڈیا کی افواج میں نمائندگی کتنی ھے حالانکہ کشمیری اپنی اھلیت و خداداد صلاحیتوں میں دنیا بھر میں زہین و فطین مانے جاتے ھیں
گزشتہ ادوار میں بھی جب بھی آزاد جموں و کشمیر پر کوئی افتاد آفات سماوی و ارضی بسلسلہ جنگ،سیلاب زلزلہ آئی ھو پاکستانی عوام و افواج پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رھے جسکی سنہری اور یادگار مثالیں ابواب تاریخ میں رقم ھیں مہاجرین جموں وکشمیر کی ایک خطیر تعداد نہ صرف پاکستان کے مختلف علاقوں میں نسل در نسل آباد و مقیم ھے بلکہ وھاں کی سیاسی معاشی و معاشرتی فیبرک میں بڑا موثر اور نمایاں کردار ادا کر رھی ھے۔
ذولفقار علی بھٹو مرحوم کی کشمیر بارے اقوام متحدہ کے فورم پر تقاریر اور 1975 میں اندرا عبداللہ معائدہ Indra Abdullah Accord کے موقع پر کشمیر کے دونوں جانب تاریخی ھڑتال ھماری ملی تاریخ کا شاندار باب کا درجہ رکھتی ھے۔
حالیہ 5 فروری یکجہتی کشمیر کا آغاز بھی 1989/90 میں اسوقت ھوا جب مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی نے ایک نئی اٹھان لی تو پاکستان میں نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا جماعت اسلامی جو اسوقت اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ تھی اسکے قائد قاضی حسین احمد نے وزیر اعلی پنجاب میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کرکے اس بارے اپیل کی کہ 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کی کال دی جائے میاں محمد نواز شریف نے اسلامی جمہوری اتحاد کے قائد کی حیثیت سے پاکستان بھر اور بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت میں اس کال کو سپانسر کیا اور وفاق میں وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس دن عام تعطیل کا اعلان کیا اور قوم نے اس جذبے اور جوش و خروش سے یہ دن منایا کہ بعد میں یہ دن ایک تہوار کا رخ اختیار کر گیا اور پھر ھر سال تسلسل کے ساتھ منایا جانے لگا۔ وزیراعظم پاکستان اس دن آزاد کشمیر آتے ھیں اور آزاد جموں وکشمیر کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ھیں پاکستان میں یہ دن سرکاری سطح پر منایا جاتا ھے صوبائی دارالحکومتوں اور قومی اداروں سمیت پاکستان کے سفارتی مشن بھی یہ دن مناتے ھیں اور دونوں اطراف کے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ھیں۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین بالخصوص میاں محمد نوازشریف کی ایک کشمیری النسل کشمیر سے خصوصی کمٹمنٹ ھونے کے، کشمیر کے دونوں اطراف میں بڑی عزت و احترام ھے اور میاں نواز شریف انکے خاندان،برادر وزیراعظم شہباز شریف،دختر وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے ھمیشہ کشمیریوں کو نہ صرف اپنے دل کے قریب رکھا بلکہ آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی و خوشحالی کے لئے اپنے اپنے ادوار حکومت میں گراں قدر فنانس کیا اور آزاد کشمیر کو دیگر صوبوں کے مساوی و بڑھکر اھمیت دی میاں نواز شریف نے زلزلہ ھو یا سیلاب انتخابی مہم ھو یا حکومتی نشستیں ھمیشہ آزاد کشمیر کو سر فہرست رکھا۔ موجودہ دور حکومت میں بھی وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی خطیر فنڈز کی فراھمی بالخصوص گزشتہ تحریک میں آٹا اور بجلی سبسڈی میں خطیر گرانٹ فراھم کی،رٹھوعہ ھریام پل کے لئے فنڈز کی فراھمی اور تین دانش سکولوں کا آزاد کشمیر میں قیام موجودہ حکومت کے کشمیریوں سے عملی یکجہتی کی تاریخ ساز مثالیں ھیں۔
موجودہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی کشمیر سے کمٹمنٹ بھی غیر متزلزل اور تاریخ ساز ھے وہ ھر فورم پر اور ھر محاذ پر کشمیریوں کی تحریک حق خود ارادیت کو اجاگر کرنے کا کوئی موقع نظر انداز نہیں کرتے۔
5 اگست 2019 کو بھارت نےمقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ھوئے اسے ایک یونین ٹریٹری Union Tratory کا درجہ دے دیا ھے اس وقت پاکستان میں عمران خان کی حکومت تھی اس نے اس موقع پر نیم خاموشی سے مجرمانہ کردار ادا کیا قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھرپور موقف دیا لیکن عمران خان نے سوالیہ استہزانہ اور مسخرانہ انداز میں کہا کہ کیا میں ھندوستان پر حملہ کردوں اس سے اسکی بد نیتی بھی عیاں ھوئی اور کمزوری بھی۔ برکیف 5 فروری یکجہتی کشمیر کا یہ دن آج بھی روایتی جوش و جذبے سے منایا جارھا ھے۔
اس بار بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے وزیراعظم پاکستان آزاد جموں وکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد تشریف لا رھے ھیں جہاں وہ آزاد کشمیر کی پارلیمنٹ سے خطاب کے علاوہ حریت راھنماؤں اور ازاد جموں وکشمیر کی سیاسی قیادت و دیگر زمہ دران سے ملاقاتیں کریں گے۔پاکستان کے عوام،حکومت،افواج پاکستان اور دیگر قومی ادارے کشمیریوں کے ساتھ ھیں جس پر اھل کشمیر انکے شکر گزار بھی ھیں اور اس عزم کا اعادہ بھی کرتے ھیں کہ یہ حمایت یکطرفہ نہیں ھے بلکہ کشمیری عوام بھی اپنی آرزوؤں و تمناؤں کے مرکز پاکستان کی سلامتی و استحکام کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور اسکی واضع مثال روزانہ پاکستان میں دھشتگردی کے شکار علاقوں سے آمدہ ھمارے نوجوان فوجیوں کی لاشیں ھیں جو پورے اعزاز و احترام سے دفن ھو رھی ھیں یہی وہ رشتے اور باھمی اعتماد و یکجہتی ھے جو اھل کشمیر اور پاکستان کے درمیان ھمیشہ سے موجود ھے اور ان شاءاللہ کشمیری عوام کی بھارتی استبداد سے چھٹکارے تک جاری رھے گی جسکا اظہار و یقین وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں بھمبر میں بھی واشگاف انداز میں کیا اور ان شاءاللہ آج بھی کریں گے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی اس موقع پر آزاد کشمیر کے سرحدی علاقوں میں برف پوش پہاڑوں اور مرغزار وادیوں میں تعینات افواج پاکستان کے کیمپوں میں جا کر کریں گے۔
اس دن کو مزید موثر، جاندار اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے ضرورت اس امر کی ھے کہ اس دن کو جدید تقاضوں کے مطابق منایا جائے تاکہ اس پر سرکاری اخراجات کا بوجھ بھی ختم ھو اور یہ دن کشمیریوں کے خوابوں کی تعبیر بنے اور ھماری تاریخ میں ایک روشن، تابدار اور یادگار دن کا درجہ حاصل کرے۔
5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کو تقریروں ، جلوسوں اور تعطیلات کے ذریعے مناتے ہوئے شعور اجاگر کرنے اور کشمیری لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے یقیناً اہم ہے ، لیکن واقعی ٹھوس نتائج حاصل کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔
اس دن کو معنی خیز اثر ڈالنے کے لئے ، ایک زیادہ جامع اور پائیدار نقطہ نظر ضروری ہے۔ یہاں کچھ عملی اقدامات ہیں جو لئے جاسکتے ہیں:
اس روز یا اس سے ایک دن ماقبل یا ما بعد وزیراعظم پاکستان و دیگر جماعتوں کے قائدین پاکستان کی مشترکہ قومی پارلیمان جائینٹ سشن سے میں خطاب کریں۔ سفارتی کوششوں کو مربوط کرتے ھوئے پاکستان کی حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں کو سفارتی مشن،فورم و چینلز کے ذریعہ کشمیر کے تنازعہ پر پر اجتماعات و قرارداد پر زور دینا چاہئے تاکہ دوسرے ممالک پر ھمارا اور کشمیریوں کا موقف بہتری کے ساتھ اجاگر ھوتا رھے۔
کشمیری عوام خاص طور پر تنازعہ سے متاثرہ افراد کو انسانی امداد ، تعلیم اور معاشی مدد فراہم کریں۔
کشمیر کے معاملے کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لئے میڈیا مہموں کا اہتمام کریں ، انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کریں ، اور پر امن قرارداد کی ضرورت کو اجاگر کریں۔
کشمیری نوجوانوں کے ساتھ مشغول ہوں ، انہیں تعلیم ، مہارت کی ترقی ، اور قائدانہ تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے انیشیٹیوز فراھم کئے جائیں تاکہ انہیں اپنے مقصد کے لئے سفیر بننے کا اختیار دیں۔
کشمیر کے خود ارادیت کے حق کے لئے ایک مضبوط مقدمہ بنانے کے لئے تحقیق اور دستاویزات انسانی حقوق کی پامالی ، معاشی نقصانات ، اور تنازعہ کے معاشرتی اثرات کا انعقاد کریں۔
ایک کثیر الجہتی نقطہ نظر کو اپنانے سے جو سفارتی کوششوں ، بین الاقوامی وکالت ، کشمیری عوام کی حمایت ، اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر متحرک ہونے کو یکجا کیا جائے ، ہم محض علامت سے آگے بڑھ سکتے ہیں اور کشمیر تنازعہ کے لئے ایک زیادہ معنی خیز اور اثر انگیز حل کی طرف کام کرسکتے ہیں۔ کشمیر کے دن کو زیادہ پرکشش اور طاقتور بنانے کے لئے ، نوجوانوں ، خواتین اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کرنے کے لئے ، مندرجہ ذیل خیالات پر غور کریں
ثقافتی مہم کے فروغ و حوصلہ افزائی کی جائے
روایتی لباس مقابلہ کی میزبانی کریں جہاں شرکاء کشمیری لباس پہنیں۔
کشمیر ڈے کوئز کشمیر کی تاریخ ، ثقافت اور آزادی کے لئے جدوجہد پر کوئز مقابلوں کا اہتمام کریں۔
خواتین کے سیمینار کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد میں خواتین کے کردار کے بارے میں ایک سیمینار کی میزبانی کریں۔
سوشل میڈیا مہم کے طور پر جیسے ہیش ٹیگز کا استعمال کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا مہم چلائیں۔
کشمیر ڈے فوڈ فیسٹیول کشمیری کھانوں کی نمائش کرنے والے ایک فوڈ فیسٹیول کا اہتمام کریں۔ اس سےکشمیر ڈے کو ایک طاقتور اور پرکشش تہوار میں تبدیل کیا جاسکتا ہے جو نوجوانوں ، خواتین ، اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو مشغول کرتا ہو ، کشمیر کے خود ارادیت کے حق کے لئے بیداری ، یکجہتی اور کارروائی کو فروغ دیتا ہے۔اس طرح کے مزید ایونٹس بھی زیر غور لائے جاسکتے ھیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے