چغل خور
تحریر: انجینئر افتخار چوہدری
پاکستان کی ترقی کا خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک قوم چوروں، چغل خوروں اور حرام خوروں سے نجات حاصل نہیں کر لیتی۔ میں رفیق گجر کے اس قول سے سو فیصد متفق ہوں کہ اگر قوم نے چار قدم چور سے، سولہ قدم چغل خور سے اور بہتر قدم حرام خور سے دور رہنے کا فیصلہ کر لیا تو ترقی کا سفر خود بخود شروع ہو جائے گا۔
میری سیاست، جدوجہد اور تحریک انصاف سے وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اگر نو مئی کے بعد گجر ہاؤس 502 میں سینکڑوں نوجوان آ رہے ہیں، اگر تحریک انصاف کے لیڈران میرے ماتھے کو چومتے ہیں، اگر علی محمد خان اور قاسم سوری میرے کردار کو تسلیم کرتے ہیں، تو پھر وہ لوگ کون ہیں جو افواہیں پھیلا کر سستی شہرت حاصل کر رہے ہیں؟
ایک مخصوص گروہ، جو صرف وقتی فائدے اور ذاتی مفادات کے لیے سیاست میں آیا، تحریک انصاف کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ کچھ ایسے لوگ جو 2014 کے دھرنے میں پیدا ہوئے اور سیاسی شعور و قربانی کی اہمیت سے ناآشنا ہیں، وہ خود کو تحریک انصاف کا رہنما سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تصاویر اور فوٹو شوٹس کے ذریعے خود کو نمایاں کرتے ہیں، کبھی کسی کو تھپڑ مار کر تو کبھی سرخ جیکٹ پہن کر اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ نوجوان ہی ہیں جو اس تحریک کی اصل طاقت ہیں۔ میں ان نوجوانوں کا ذکر کیے بغیر اس تحریر کو مکمل نہیں کر سکتا جو ہر مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے رہے۔
چند دن پہلے ہی گلگت بلتستان کے چار نوجوان اٹک جیل سے رہا ہو کر آئے۔ جیل میں گزارے گئے دنوں کی اذیت، ان کے حوصلے اور ان کے جذبے کو دیکھ کر دل خوش ہوا۔ میرے بیٹے نوید نے انہیں گجر ہاؤس 502 میں خوش آمدید کہا، ان کی بہترین میزبانی کی، ان کے لیے بہترین کھانے کا انتظام کیا اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ ان کے گھروں تک روانہ کیا۔
یہ وہی نوجوان ہیں جو کسی مفاد پرست، موقع پرست یا سازشی عناصر کے ساتھ نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اصل نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ میرے گھر میں کل بھی 40 سے زائد نوجوان آئے، جو تحریک انصاف کے مستقبل کی امید ہیں۔ ان سب کو میں نے یہی پیغام دیا کہ "مشکل وقت میں آپس میں نہیں لڑنا، جب تک ہمارے قائد قید میں ہیں، ہمیں متحد رہنا ہوگا۔”
اگر کسی کو اختلاف ہے تو کھل کر سامنے آئے، مگر چغلیوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے کسی کی جدوجہد کو نقصان پہنچانا کہاں کی سیاست ہے؟ میں نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا، اور یہی میرا جرم ہے کہ میں نے پوچھا کہ "انجینئر افتخار چوہدری کا ٹکٹ کہاں گیا؟” اگر میں نے یہ سوال اٹھایا تو کیا میں پارٹی سے باہر ہو گیا؟ کیا سوال اٹھانا جرم بن گیا؟
یہ وہی رویہ ہے جو ہمیں پاکستان کی بدحالی کی طرف لے جا رہا ہے۔ اگر لیڈر خود سوال اٹھانے کی ترغیب دے اور کارکن سوال کرے تو وہ "غدار” بن جائے؟ حضرت عمرؓ سے لوگ چادر کے بارے میں سوال کر سکتے ہیں، مگر یہاں اگر میں نے پوچھ لیا کہ کچھ لوگوں نے اپنی جھولی میں تین تین ٹکٹ کیوں ڈالے تو میں مجرم بن گیا؟
یہ سیاست صرف اقتدار کے لیے نہیں بلکہ قربانی دینے والوں کے خون کا قرض بھی ہے۔ عدنان شہید کی قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح حق تلفی نے ایک جان لے لی۔ جو لوگ اس تحریک میں اپنی جانیں دے چکے، ان کے خون سے بے وفائی کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ قبر میں بھی حساب دینا ہوگا۔
گجر ہاؤس 502 کسی ایک فرد کا گھر نہیں بلکہ تحریک انصاف کے نوجوانوں کا قلعہ ہے، جہاں حق اور سچ کی بات کی جاتی ہے۔ کل بھی یہاں تحریک انصاف کے نوجوان تھے، آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔ وہ لوگ جو ہماری جڑیں کاٹنے کے درپے ہیں، انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ ہم کسی ذاتی مفاد کے لیے سیاست نہیں کرتے بلکہ اصولوں پر کھڑے ہیں۔
یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ کون لوگ تحریک انصاف کی اصل طاقت کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟ وہ جو وقت آنے پر کھڑے رہے، یا وہ جو صرف تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے لیڈر بننے کی کوشش میں لگے رہے؟ میں اللہ کے فضل سے کسی کی محتاجی میں نہیں، میرے لیے تحریک انصاف ایک نظریہ ہے، ایک مشن ہے، اور اس کے لیے میں آخری وقت تک کھڑا رہوں گا۔
قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ چور، چغل خور اور حرام خوروں کے ساتھ رہے گی یا اس ملک کو ایک عظیم اور خوددار ریاست بنانے کے لیے حق اور سچ کا ساتھ دے گی؟
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں