کراچی کے تاجروں کو اگر مجھ سے مسئلہ ہے بات کریں، کہیں اور جاکر چغلی کرنے کی ضرورت نہیں، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کراچی کے تاجروں کو اگر مجھ سے مسئلہ ہے تو بات کریں، کہیں اور جاکر چغلی کرنے کی ضرورت نہیں۔

کراچی میں تاجروں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ کی کسی سے بھی شکایت ہے ہم سے بات کریں، کسی سے چغلی کرنےکی ضرورت نہیں، صوبے کی ذمہ داری پیپلز پارٹی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے نہ آنے پر مذاکراتی کمیٹی اجلاس ملتوی، اسپیکر کا کمیٹی برقرار رکھنے کا اعلان

’ آپ کی کسی سےبھی شکایت ہے ہم سے بات کریں، صوبے کی ذمہ داری پیپلز پارٹی کی ہے،کسی سےشکایت کرنےکی ضرورت نہیں، منسٹر، چیف منسٹر سے کوئی شکایت ہے تو مجھ سے بات کریں، کسی اور سے نہ کریں۔‘

تاجروں کو مخاطب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے ملک کےلیے جو کردار ادا کیا وہ سب کے سامنے ہے، جن مسائل کا آپ سامنا کررہے ہیں وہ سب جانتے ہیں، اس سے پہلے جیسے شہر چلتا تھا وہ بھی سب جانتے ہیں۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ کیوں چاہیں گے کہ ان کے یا حکومت کے نام پر کوئی تاجروں کو تنگ کرے، وہ اس صوبےاور ملک سےالیکشن لڑتے ہیں اور ان کے نمائندے جیتتے ہیں۔ ’مسائل کا حل نکالنے کی ذمےداری ہماری ہے، اسے قبول کرتےہیں۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ توانائی کےحوالے سےسندھ میں سب سے زیادہ پوٹینشنل موجود ہے، اسلام آباد میں ہم سے مشاورت کیےبغیر فیصلےکیےجاتےہیں، جن کے نتائج ہم بھگتتےہیں۔

’آپ سب جانتےہیں کہ تھرکول سےپہلی بجلی فیصل آباد کودی، ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں بجلی دیں اور کم قیمت پربجلی دیں، اسلام آباد میں وزیراعظم اور بیوروکریٹس ڈھٹائی سےکہتےہیں کہ لوڈشیڈنگ ختم کی۔‘

تاجروں کی جانب سے شہر میں پانی کی فراہمی کے مسئلہ پر، بلاول بھٹو نے کہا کہ 1991 کے معاہدے پر عملدرآمد کیا جائے تبھی پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے، تاہم اس دوران پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ڈی سیلینیشن پلانٹ کی جانب پیش رفت کی جاسکتی ہے۔

’ ہم واحدصوبہ ہیں جو پبلک پرائیوٹ پارٹرشب کےکامیاب پروجیکٹ چلارہے ہیں، میں چاہوں گاکہ اب اس پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کومزیدتیزکریں، کراچی کی آبادی سب سےزیادہ ہے، یہاں بہت پوٹینشل موجود ہے۔‘

بزنس کمیوںٹی سے ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بزنس کمیونٹی سے رابطہ کاری اب بڑھائی جائے گی، ملک میں کوئی شعبہ ایسا نہیں جس سےمیرا رابطہ نہ ہوتا ہو، اس کا مقصد آپ کے مسائل سننا اور ان کا حل نکالنا ہے۔

 

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے