صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا بارہویں جوڈیشل کانفرنس میں خطاب

صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مظفرآباد میں چیف جسٹس ہائی کورٹ صداقت حسین راجہ کی جانب سے منعقدہ بارہویں جوڈیشل کانفرنس میں اپنے خطاب میں ریاستی عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے درمیان "Trichotomy of Powers” کے اصول پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تینوں ادارے ریاست کے بنیادی ستون ہیں جو ایک دوسرے کو متوازن رکھتے ہیں اور کسی بھی ادارے کے حدود سے تجاوز کرنے پر انارکی اور طوائف الملوکی پھیلتی ہے۔

صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے عدلیہ کے کردار کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کا کام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، خاص طور پر جب مقننہ یا انتظامیہ کے اقدامات سے ان حقوق کو خطرہ لاحق ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلاحی ریاست میں عوام کے حقوق کی پاسداری مقننہ کی ذمہ داری ہے، جب کہ عدلیہ ان حقوق کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری ادا کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سلطان محمود چوہدری کا ناروے سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا مطالبہ

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے آذاد جموں و کشمیر کی عدلیہ کی تاریخ کو شاندار قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو اس عظیم ورثہ کو سنبھالنا اور قائم رکھنا چاہیے۔ انہوں نے قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کے کردار کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بات کی۔ خصوصاً جوڈیشل ریکارڈ اور کارروائی کی خودکاری (Automation) کے ذریعے مقدمات میں بلا جواز تاخیر کو کم کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں، انہوں نے چیف جسٹس صداقت حسین راجہ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی اور ریاستی سطح پر جوڈیشل کانفرنس کے انعقاد کو سراہا۔

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے