اسلامی فلاحی ریاست کا تصور آسان مگر پایہ تکمیل تک پہنچانےکیلئے بہت محنت درکار ہے ،وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر
وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ اسلامی فلاحی ریاست کا تصور بہت آسان ہے، لیکن اسے عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کی جانب سے کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار 2900 اساتذہ کی شفاف این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی کی گئی ہے اور پی ایس سی کے ذریعے بھی شفاف بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ چھوٹے ملازمین کی عزت نفس کو بحال کیا گیا اور مافیاز کا خاتمہ کیا گیا ہے۔
چوہدری انوارالحق نے فلاحی ریاست کا تصور بھی پیش کیا جس کے تحت 10 ارب کی لاگت سے سوشل پروٹیکشن فنڈ قائم کیا گیا ہے، جس کا سروے مکمل ہو کر فہرستیں فائنل کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، 3 ارب کی لاگت سے بیروزگاری کے خاتمے کے لیے انڈومنٹ فنڈ قائم کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اتحادی حکومت کے اٹھارہ ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور ان کا یہ مشن عوام کی خدمت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اختیارات اللہ کی طرف سے ہیں اور وہ جب چاہے دیتے ہیں اور جب چاہیں واپس لے لیتے ہیں۔ وزیراعظم نے پاک فوج کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاک فوج خطے میں ہندوستان کے عزائم کو روکنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاک فوج نہ ہوتی تو کنٹرول لائن پر رہنے والے افراد کا کیا حال ہوتا، اور وہ خود اس بات کے گواہ ہیں کیونکہ وہ ایل او سی پر رہنے والے ہیں۔
وزیراعظم نے اپنی حکومت کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ان کی حکومت کے ایجنڈے میں سر فہرست ہے اور انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے زیادہ متحرک ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔
چوہدری انوارالحق نے پاکستان کے اندرونی مسائل، جیسے فیک نیوز، سیاسی پولرائزیشن، اور اخلاقی اقدار کی کمی پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کا قیام آسان نہیں، اور اس کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صحافت سے اپنی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافت میں سچ بولنا اور حقائق سے آنکھیں نہ چرانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک فوج کشمیریوں کی پشتبان اور خطے میں امن کی پہچان ہے ،وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے آزاد کشمیر میں مختلف مافیاز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے اور اس سے وفاقی ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم نے سیاسی کارکنوں کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ پاک نے انہیں جو موقع دیا ہے، اس پر وہ ہر دم شکر گزار ہیں۔
آخر میں، وزیراعظم نے سیاسی کارکنوں، صحافیوں، اور دیگر حکومتی اداروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی یا صحافتی سسٹم میں اخلاقیات کی کمی ہو تو اسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ "جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے”، اور اگر حکومت یا سسٹم میں مشکلات ہیں تو ان کا حل عوامی مفاد میں ہونا چاہیے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں