چلہ کلاں کا آغاز ، کڑاکے کی سردی میں 4سو سال قدیم’’ فیرن‘‘ آج بھی کشمیریوں کا محافظ
لباس کسی بھی قوم کی ثقافت کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے موسم سرما میں زیب تن کیا جانے والاکشمیری لباس ’فیرن‘ ایک ممتاز شان رکھتا ہے۔
فیرن دنیا بھر میں کشمیری لباس اور کشمیری ثقافت کی سب سے نمایاں پہچان ہےاور دنیا بھر میں اس ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے کشمیری چلہ کلاں کے آغاز کے وقت یعنی 21دسمبر کو فیرن ڈے مناتے ہیں اور یہ لباس پہن کر اپنے کلچر کو دنیا سے روشناس کرواتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بھارتی کارپوریٹ کمپنیاں مقبوضہ کشمیر میں ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ کی طرح کام کر رہی ہیں:رپورٹ
فیرن کی تاریخ 400سال پرانی ہے اور تب سے آج سردیوں میں کڑاکے کی سردی سے تحفظ کیلئے80فیصد کشمیری آج بھی فیرن کو ہی زیب تن کرتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس روایتی لباس نے 90فیصد کشمیری ہنر مندوں کو روزگار فراہم کیا تاہم اب جی ایس ٹی اضافے سے کشمیری دستکاروں کی آمدنی میں 40 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
آج فیرن ڈے کی مناسبت سے کشمیری ثقافت کی پہچان کے لیے اسکولوں میں 1 لاکھ بچوں کو روایتی لباس پہننے کی ہدایت کی گئی تاکہ یہ روایت اگلی نسل میں منتقل ہو سکے ۔
واضح رہے کہ وادی کشمیر میں”چلہ کلاں “کاآغاز ہو گیا ہے۔ شدید ترین سردی کا دورانیہ ”چلہ کلاں‘ 21دسمبر سے 31جنوری تک جاری رہتا ہے ۔
موسم سرما کے یہ چالیس روزانتہائی ٹھٹھرتی سردی کے ہوتے ہیں اور وادی کشمیر میں اس دوران درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کافی نیچے درج ہوتا ہے اور آبی ذخائر یہاں تک کہ گھروں میں نصب پانی کے نل بھی منجمندہوجاتے ہیں ۔ چلہ کلان لوگوں کو گھروں تک محدود کردیتا ہے اور شدید سردی سے بچنے کیلئے کشمیری فیرن پہننے کو ترجیح دیتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں