صوبے میں قانون اور امن کی صورتحال پر بات نہیں کی،فیصل کریم کنڈی کی پختونخوا حکومت پر سخت تنقید
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں قانون اور امن کی صورتحال پر بات نہیں کی، جبکہ وہ دیگر مسائل پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کو ملیٹنٹس (مسلح گروپوں) کے حوالے کر دیا ہے اور وفاقی حکومت سے اس حوالے سے مدد کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
فیصل کریم کنڈی نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنی سیاست کو بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں اور اسلام آباد میں احتجاج کے دوران سرکاری وسائل کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ علی امین گنڈا پور اور دوسرے پی ٹی آئی رہنما اسلام آباد میں دہشت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی کابینہ نے انتہا پسندی کی روک تھام کیلئےقومی پالیسی بنانے کی منظوری دے دی
کنڈی نے وزیر اعلیٰ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ وفاق میں اپنے صوبے کا مقدمہ نہیں لڑ سکتے۔ انہوں نے گورنر راج کے امکان کو بھی اجاگر کیا، جو وفاقی حکومت کی مشاورت سے لگایا جائے گا۔
آخر میں، انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا پی ٹی آئی صرف خیبرپختونخوا تک محدود رہ گئی ہے یا اس کی سیاسی سرگرمیاں دیگر علاقوں تک بھی پھیل رہی ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں