رؤف حسن کا بی بی سی کی رپورٹ پر شدید ردعمل

رؤف حسن، سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، نے حامد میر کے کیپٹل ٹاک شو میں بی بی سی کی رپورٹ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس صرف گیارہ (11) اموات کی تصدیق ہے، جو یقیناً انتہائی افسوسناک ہیں۔ تاہم، انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی بی سی نے ایک نامعلوم ڈاکٹر کے حوالے سے سنسنی پھیلائی، جس کا نہ صرف صحافت اور پاکستان کی ساکھ پر نقصان دہ اثر پڑا بلکہ اس سے عوامی نفسیات بھی متاثر ہوئی۔

رؤف حسن نے بی بی سی کی رپورٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار پر بھی تنقید کی، جن میں لطیف کھوسہ کے 278، شیخ وقاص کے 100 اور سلمان اکرم کے 20 لاشوں کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، بی بی سی کی اس رپورٹنگ نے غیر شفاف اور غیر پیشہ ورانہ طریقے سے مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں مفروضے قائم کیے، جس نے صرف سنسنی پھیلانے کا کام کیا۔

یہ بھی پڑھیں:احتجاجی مظاہرین پر تشدد خیبرپختونخوا حکومت کا تین روزہ سوگ کا اعلان

بی بی سی کی رپورٹ کی ایک عبارت پر تبصرہ کرتے ہوئے رؤف حسن نے کہا کہ اس قسم کی زبان "خوفناک” ہے، جیسے کہ:
“آج تک ایک رات میں اتنی سرجریز نہیں کی گئیں، جتنی آپریشن کی رات کی گئیں۔۔۔ بعض زخمی اس قدر تشویشناک حالت میں آئے کہ انھیں انیستھیزیا دینے کا انتظار کرنے کی بجائے ہمیں سرجریز شروع کرنی پڑیں۔۔۔ رش اس قدر زیادہ تھا کہ ہم نے ایک بیڈ پر دو دو سرجریز کیں اور گولیاں نکالی ہیں۔”

رؤف حسن نے اس سنسنی خیز لفاظی کو صحافتی اخلاقیات کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک غیر واضح اور کھلے اختتام کے ساتھ لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے