کشمیر عملی طورپر پانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکا
اکتوبر کا مہینہ کشمیر اور کشمیری عوام کے لئے خاص اہمیت رکھتاہے 24 اکتوبر1947 کوکشمیری مجاہدین نے قبائلی لشکروں کی مدد سے اس وقت کے ڈوگرہ حکمرانوں سے کشمیر کے ایک حصے کو آزاد کروا کر انقلابی حکومت قائم کی تھی یہ علاقے آزاد کشمیر کہلاتے ہیں جنہیں باقی ماندہ کشمیر کی آزادی کے لئے بیس کیمپ قرار دیا گیا تھا، 27 اکتوبر1947 کو بھارت نے فوجیں اتار کر جموں اور سرینگر سمیت کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ 1948 سے کشمیری عوام ہر سال اکتوبر کی 24 تاریخ کو آزاد کشمیر کی پہلی حکومت کا یوم تاسیس مناتے ہیں جبکہ 27 اکتوبر کو بھارتی قبضے کے دن کو یوم سیاہ کے طورپر منایا جاتاہے۔
ہرسال کی طرح اس بار بھی 24 اکتوبر کو آزاد جموں و کشمیر حکومت کے 77ویں یوم تاسیس کی مناسبت سے ریاست بھر میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔ دارالحکومت مظفرآباد میں دن کا آغاز 21 توپوں کی سلامی سے ہوا اور پریڈ گراونڈ میں مرکزی تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی صدرآزاد جموں وکشمیربیرسٹرسلطان محمود چوہدری تھے ۔ صدرریاست نے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے ہمراہ پرچم کشائی کی۔ اس موقع پر آزادکشمیر پولیس،ریسکیو 1122، کمانڈوز،گرلزگائیڈ، بوائز سکاوٹس،ٹورسٹ پولیس کے چاک و چوبند دستوں نے سلامی دی اورمارچ پاسٹ کیا۔ تقریب میں سابق وزرائے اعظم سمیت ریاست کی تقریباً تمام نمایاں شخصیات نے شرکت کی تاہم اس بار برطانوی رکن پارلیمنٹ اعظم خان لارڈ میئر مانچسٹر یاسمین ڈار، لارڈ مئیر سٹوک آن ٹرنٹ ماجد علی خان کی شرکت نے تقریب کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا۔

مہمان خصوصی صدرآزاد کشمیر بیرسٹرسلطان محمودچوہدری کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام 77سال سے آزادی کی خوشی منارہے ہیں لیکن یہ خوشی اسوقت تک ادھوری ہے جب تک لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب مقبوضہ جموں وکشمیر آزادہوکر پاکستان میں شامل نہیں ہوجاتے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے کشمیری عوام کی قربانیوں سے شرکاء کو آگاہ کیا اور ڈوگرہ افواج کا مقابلہ کرنے والے پاکستانی افواج کے اہلکاروں اور خیبر پختونخوا کے قبائلی مجاہدین کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ انوار الحق نے آزاد کشمیر میں ہونے والی ترقی پر بھی روشنی ڈالی۔ 77ویں یوم تاسیس کی مناسبت سے کشمیر کلچرل اکیڈمی اور ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے زیر اہتمام آزادجموں وکشمیر یونیورسٹی کنگ عبداللہ کیمپس میں "شام ثقافت کشمیر” کے عنوان سے بھی تقریب منعقد کی گئی جس کی مہمان خصوصی عظیم کشمیری رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال حسین ملک تھیں۔
یہ ایک عجیب اتفاق ہے رواں سال اکتوبر کے مہینے میں تاریخی ریاست جموں و کشمیر کے تین اہم خطوں میں ہونے والی سرگرمیاں یہ بتا رہی ہیں کہ سینکڑوں سال پرانی اس ریاست کے باشندوں کے درمیان دوریاں کسی لڑائی جھگڑے اور تنازع کے بغیر ہی اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ دوبارہ وحدت کی دور دور تک کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ اگر آزاد کشمیر کے لوگ اپنی حکومت کا یوم تاسیس منا رہے ہیں تو لداخ ،گلگت بلتستان یا چین کے زیر انتظام علاقوں میں شائد ہی کسی کو اس کی خبر بھی ہو۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے نومنتخب وزیراعلیٰ عمر عبداللہ جموں اور سرینگر وادی کے علاقوں کو بھارت کی ایک ریاست کا درجہ دلانے کے مشن پر دہلی میں موجود ہیں جہاں ان کی امیت شاہ کے بعد مودی سے بھی ملاقات ہوئی ہے جس میں کشمیر کو لداخ کے بغیر مکمل ریاست کا درجہ دینے پر بات چیت کی گئی ۔ وہی امیت شاہ اور مودی جنہوں نے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا تھا ،عمرعبداللہ کی سرگرمیوں سے آزاد کشمیر کے حکمران اور عوام اگر بے خبر نہیں بھی ہیں تو خاموش ضرور بیٹھے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کو دو ٹکڑے کرکے بھارت میں ضم کرنے کی اقدامات پر ٹوکن احتجاج سے آگے کسی سرگرمی میں مصروف نظر نہیں آتے۔
لداخ کشمیر کا ایک ایسا خطہ ہے جہاں بھارت اور چین کی افواج کئی دفعہ آمنے سامنے آچکی ہیں تاہم 2020 میں گلوان وادی میں ہونے والی سرحدی جھڑپ کے بعد اب دونوں ممالک نے حال ہی میں سرحد پر اپنی افواج پیچھے ہٹانے اور پٹرولنگ کا طریقہ کار طے کرنے کے لئے ایک معاہدہ کیا ہےجس سے اندازہ ہوتاہے کہ کشمیر کے معاملات میں چین بھی ایک باضابطہ فریق ہے اور چین وہ علاقے واپس کرنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہو گا جو اس وقت اس کے کنٹرول میں ہیں۔
کشمیر صرف جموں ،سرینگر وادی اور آزاد کشمیر کا نام نہیں بلکہ گلگت بلتستان، لداخ، اکسائی چن، وادی شاکسگم اور سیاچن گلیشیئر بھی ریاست کشمیر کا حصہ رہے ہیں۔1947 والی ریاست جموں و کشمیر اس وقت عملی طورپر 5 ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے،پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان دو الگ انتظامی یونٹ بن چکے ہیں اور دونوں خطوں کو ایک اکائی کے طور پر دوبارہ متحد کرنے کی بظاہر کوئی سبیل نظر نہیں آرہی ۔ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر 5 اگست 2019 کے اقدام سے پہلے تک ایک نیم خود مختار ریاست کا درجہ رکھتی تھی جس کا اپنا آئین ، اپنا پرچم اور اسمبلی تھی لیکن بھارتی آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کے بعد جموں و کشمیر کو عملی طورپر بھارت میں ضم کرکے دو الگ یونٹ بنانے کی تیاری کی جارہی ہے ، پہلے مرحلے میں جموں اور سرینگر وادی کے علاقوں پر مشتمل علاقے میں اسمبلی انتخابات کروا کر اسے ریاست کا درجہ دیا جارہاہے جبکہ اگلے مرحلے میں خطہ لداخ کے علاقوں کو ایک نئی ریاست بنایا جائے گا۔ متحدہ ریاست جموں و کشمیر کا پانچواں حصہ اکسائی چن اور وادی شاکسگم اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے اور چین نے 2023 میں جاری کئے گئے اپنے سرکاری نقشے میں اکسائی چن کو بھی اپنا حصہ قرار دیا ہے ۔ سرکاری نقشے میں چین نے ان علاقوں کو تبت کا حصہ دکھایاہے۔
جس طرح اکھنڈ بھارت یعنی تقسیم برصغیر سے پہلے والے متحدہ ہندوستان کی بحالی کا نعرہ بھارت میں بہت زور شور سے لگایا جاتاہے اور اس کا خواب دیکھنے والے ہزاروں لاکھوں نہیں کروڑوں کی تعداد میں ہوں گے لیکن عملی طورپر دور دور تک اس کے کوئی امکانات نہیں کیوں کہ تقسیم ہند کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والے پاکستان اور ہندوستان ایک ایسی حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں جس کو اب نہ جھٹلایا جا سکتاہے نہ ختم کیا جاسکتاہے ،اسی طرح پاکستان سے علیحدگی کے بعد بنگلہ دیش بھی ایک آزاد اور خود مختار مملکت ہے جس کی پرانی حیثیت کو بحال کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔
اسی طرح کشمیر ہمارا ہے، سارے کا سارا ہے، یہ نعرے بھی ہم آئے روز سنتے ہیں ، ہم سے پہلے بھی دو تین نسلوں نے یہ خواب دیکھے اور یہ خواب دیکھنے والے آئندہ بھی موجود رہیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے علاقوں پر مشتمل وہ ریاست جو تقسیم برصغیر کے وقت ڈوگرہ حکمرانوں کے کنٹرول میں تھی وہ آج عملی طورپر پانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے اور اس کا دوبارہ ایک اکائی بننا بظاہر ناممکن لگ رہاہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں