مقبوضہ کشمیر کو لداخ کے بغیر مکمل ریاست بنانے کی منظوری
بھارت کی مرکزی انتظامیہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کی منظوری دے دی ہے تاہم اس ریاست میں لداخ کا خطہ شامل نہیں ہو گا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی نیشنل کانفرنس کی ریاستی حکومت نے کابینہ کے پہلے اجلاس میں جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کی قرارداد منظور کی تھی ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے عمر عبداللہ سرکار کی قرارداد کی باضابطہ منظوری دے دی ہے ۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی نومنتخب اسمبلی کا پہلا سیشن چار نومبر کو ہوگا ۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلی عمر عبداللہ کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات بھی متوقع ہے جس میں مکمل ریاست کے درجے پر بات ہو گی ۔
واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو آرئین کےآرٹیکل370 اور 35 اے کو ختم کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا اور جموں و کشمیر کو مرکزی حکومت کے زیر انتظام یونین ٹیریٹری قرار دیا تھا جبکہ لداخ کے خطے کو کشمیر سے الگ کرتے ہوئے اسمبلی کے بغیر یونین ٹیریٹری کا درجہ دیا تھا۔ اب جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے بعد لداخ کو الگ ریاست کا درجہ دیئے جانے کاامکان ہے اس طرح کشمیر کی وحدت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔
پاکستان کے زیر انتظام آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کا خطہ پہلے ہی دو الگ الگ انتظامی اکائیوں پر مشتمل ہے اگر بھارت بھی لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دیتا ہے تو جموں و کشمیر کی قدیمی ریاست عملی طور پر پانچ حصوں میں تقسیم ہو جائے گی جن میں سے اکسائی چین کا علاقہ چائنہ کے کنٹرول میں ہے
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں