آئینی ترمیم ، حکومت کے پاس ضمیر پر ووٹ لینے کا آپشن موجود ہے:بلاول بھٹو
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے پاس ضمیر پر ووٹ لینے کا آپشن موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ہم اتفاق رائے چاہتے ہیں۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 25 اکتوبر تک آئینی ترمیم پاس ہونے کے لیے پُرامید ہوں لیکن اس کے باوجود ہماری طرف سے کوئی ٹائم لائن نہیں، ترمیم اس کے بعد بھی ہوسکتی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر کے ساتھ اتفاق رائے ہو، جے یو آئی کا مسودہ آئے گا تو پھر اس پر بات کریں گے۔چیئرمین پی پی پی نے کہاکہ ایوان صدر میں پانچ بڑوں کی ملاقات ہوئی ہے تو ضرور سنجیدہ گفتگو ہوئی ہوگی۔
حکومت نے عدالتی اصلاحات سے متعلق آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا ہے، ستمبر میں آئینی ترمیم پاس کرانے کی کوشش کی گئی تاہم نمبر پورے نہ ہونے کی وجہ سے حکومت نے ترمیم کو موخر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ جلد دوبارہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلائے جائیں گے اور ترمیم پاس کرائی جائے گی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں