افغان سفارتکار آداب بھول گئے، پاکستانی ترانے کا احترام نہ کیا

پشاور میں عید میلاد النبیؐ کے موقع پر رحمت للعالمین ﷺکانفرنس میں قومی ترانے کے دوران سفارتی آداب کی خلاف ورزی دیکھی گئی اور افغان قونصل جنرل پاکستان کے قومی ترانے کے احترام میں کھڑے نہ ہوئے جس پر پاکستان میں قومی میڈیا اور سوشل میڈیا پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے جب کہ دفتر خارجہ نے بھی قومی ترانے کا احترام نہ کرنے کو سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔

بارہ ربیع اول کے موقع پر خیبر پختونخوا کے صوبائی دار الحکومت پشاور میں سرکاری طور پر رحمت العلمین ﷺکانفرنس کی تقریب منعقد ہوئی۔

تقریب میں وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، دیگر صوبائی کابینہ اراکین کے علاوہ افغان قونصل جنرل بھی شریک تھے۔

تقریب میں قومی ترانے کے دوران افغان کونسل جنرل حافظ محب اللہ اپنی نشست پر بیٹھے رہے، ترانے کی تعظیم میں سب لوگ کھڑے رہے اور کونسل جنرل اپنی نشست پر بیٹھے رہے۔

سرکاری ذرائع نے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ افغان قونصل جنرل کا قومی ترانے کے احترام میں کھڑا نہ ہونا سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سفارتی آداب کے تحت کسی بھی ملک کا سفارتی عملہ تعیناتی کے دوران میزبان ملک کے قوانین پر عملدرآمد کا پابند ہے۔

دوسری جانب معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ میزبان ملک کے قومی ترانے کا عدم احترام سفارتی اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے قائم مقام قونصل جنرل کا یہ فعل قابل مذمت ہے، ہم اسلام آباد اور کابل دونوں مقامات پر موجود افغان حکام کو اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔

ترانے میں میوزک تھا، اس لیے قونصل جنرل کھڑے نہیں ہوئے، ترجمان افغان قونصلیٹ

ادھر ترجمان افغان قونصلیٹ پشاور نے اپنے جاری وضاحتی بیان میں کہا کہ ہرگز پاکستانی ترانے کی بے حرمتی اور بے توقیر ی مقصد نہیں تھا، چونکہ ترانے میں میوزک تھا، اس لیے قونصل جنرل کھڑے نہیں ہوئے۔

افغان قونصلیٹ پشاور نے کہا کہ ہم نے اپنے قومی ترانے پر بھی میوزک کی وجہ سے پابندی لگائی ہوئی ہے، اگر یہ ترانہ بغیر میوزک کے چلتا یا بچے پیش کرتے تو لازمی قونصل جنرل کھڑے ہوتے اور سینے پر ہاتھ بھی رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان یا قومی ترانے کی توہین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

افغان قونصل جنرل کی طرف سے پاکستان کے قومی ترانے کے احترام میں کھڑے نہ ہونے کا معاملہ سفارتی حلقوں کی طرح سوشل میڈیا پر بھی ٹرینڈ کررہاہے اور صارفین جہاں اسے سفارتی آداب کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں وہاں اس واقعہ کی بنیاد پر نفرتوں کو مزید ہوا نہ دینے کے مشورے بھی دیئے جارہے ہیں۔ صحافی اظہر علی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر لکھا کہ طالبان کے پہلے دور حکومت میں اس وقت کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے بھی کنونشن سنٹر میں یہی حرکت کی تھی تاہم توجہ دلانے پر معذرت کرنا پڑی۔
ملاعبدالسلام ضعیف کا ذکر کرنے پرایک صارف حق نواز خان نے یاد دلایا کہ ملاعبدالسلام ضعیف نے تو ترانے کااحترام نہیں کیا تھا لیکن پاکستان نے تمام سفارتی اداب نظراندازکرتے ہوئے انہیں امریکا کے حوالے کردیا تھا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے