آئینی ترمیم کے لئے نمبرز پورے نہیں، سینٹ اور اسمبلی اجلاس ملتوی
آئینی ترمیم کے معاملے پر وفاقی کابینہ کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس کئی گھنٹے التوا کا شکار ہونے کے بعد آج دوپہر ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کردیا گیا جبکہ وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج موخر کردیا گیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اتوار کی شام 4 بجے ہونا تھا لیکن بعد ازاں یہ تاخیر کا شکار ہو گیا اور اب یہ چار گھنٹے بعد رات 8 بجے موخر کردیا لیکن 8 بجے بھی اجلاس شروع نہ نہ ہو سکا۔
رات 11 بجے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا لیکن چند منٹ تک جاری رہنے والے اجلاس کو اسپیکر قومی اسمبلی نے پیر کی دوپہر ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔
اس سے قبل وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا سہ پہر تین بجے ہونے والا اجلاس بھی تاخیر کا شکار ہوا۔
کابینہ کا اجلاس دن 11 بجے طلب کیا گیا تھا لیکن پھر اسے تین بجے تک موخر کردیا گیا تھا لیکن یہ شام پانچ بجے تک شروع نہ ہو سکا۔
بعدازاں وفاقی کابینہ کا اجلاس موخر کر دیا گیا۔
اس سے پہلے ایوان بالا سینیٹ کا اجلاس بھی تاخیر کا شکار ہوا تھا اور 4 بجے شروع ہونے والا اجلاس 7 بجے تک موخر کردیا گیا تھا لیکن قومی اسمبلی اجلاس میں تاخیر کے سبب سینیٹ کے اجلاس کو بھی رات 10 بجے تک موخر کردیا گیا تھا۔
تاہم بعد میں سینیٹ کے اجلاس کو بھی پیر کی دوپہر ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے نمبر پورے نہیں تھے اس لیے اجلاس ملتوی ہوا۔
آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو پارلیمنٹ میں دو تہائی ارکان اسمبلی کی منظوری درکار ہے، یعنی 336 کے ایون میں سے تقریباً 224 ووٹ درکار ہیں، تاہم ابھی تک ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت کے پاس دونوں ایوانوں میں کم از کم ایک درجن ووٹوں کی کمی ہے۔
قومی اسمبلی کی 336 نشستوں میں سے حکومتی بینچوں پر 211 ارکان موجود ہیں جس میں مسلم لیگ (ن) کے 110، پاکستان پیپلز پارٹی کے 68، ایم کیو ایم پاکستان کے 22 ارکان شامل ہیں۔
اس کے علاوہ حکومتی ارکان میں استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ ق کے 4،4، مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے 1،1 رکن بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر 101 ارکان ہیں، سنی اتحاد کونسل کے 80 اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 8 آزاد ارکان کے ساتھ 88 ارکان اسمبلی، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے 8 جب کہ بی این پی مینگل، ایم ڈبلیو ایم اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن موجود ہے۔
آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو سینیٹ میں 63 ووٹوں کی ضرورت ہے تاہم ایوان بالا میں حکومتی بینچز پر 54 ارکان موجوود ہیں جن میں پاکستان پیپلزپارٹی کے 24، مسلم لیگ (ن) کے 19، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 اور ایم کیو ایم کے 3، ارکان شامل ہیں، یعنی حکومت کو آئینی ترمیم کیلئے مزید 9 ووٹ درکار ہوں گے۔
اعلیٰ ایوان کی اپوزیشن بینچز پر پی ٹی آئی کے17، جے یو آئی کے 5، اے این پی کے 3، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت مسلمین، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق کا ایک ایک سینٹر ہے، اپوزیشن بنچز پر ایک آزاد سینیٹر بھی ہیں، اس طرح سینیٹ میں اپوزیشن بینچز پر 31 سینیٹرز موجود ہیں۔
اس سے قبل اتوار کے روزحکومتی رہنمائوں نے آئینی ترمیم کے لئے نمبرز پورے ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن بنچوں سے مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی آئینی ترمیم کے لئے ساتھ دے گی ۔
وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کا اتوار کو پارلیمنٹ ہائوس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے حوالے سے پرامید ہیں کہ نمبر گیم میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔
وزیردفاع خواجہ آصف نےکہا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے نمبر گیم پوری ہے اور اس حوالے سے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے کچھ تحفظات تھے جنہیں دور کر لیا گیا ہے۔
مولانا اور اتحادی جماعتوں کے علاوہ بھی کچھ ووٹ ہیں جو ملیں گے اور وہ آئینی اور قانونی طور پر کسی اور کے پابند نہیں ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی طارق فضل چوہدری نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے نمبر پورے ہیں
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں