بیرسٹر گوہر،شیر افضل ، شعیب شاہین گرفتار، مزیدرہنمائوں کاگھیرائو

پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیر مین بیرسٹر گوہر اور سینئر رہنما شیر افضل مروت کو پارلیمنٹ کے باہراور شعیب شاہین کو ان کے گھر سے گرفتارکر لیا گیا جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے بھی لاپتہ ہونے کادعویٰ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کےلیے پولیس کی نفری پارلیمنٹ ہاؤس کےباہر کھڑی ہے جبکہ شیخ وقاص اکرم، صاحبزادہ حامد رضا، زین قریشی اور شاہد خٹک کے پارلیمنٹ میں موجود ہونے کی خبریں آئی ہیں ۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمرایوب اور زرتاج گل کو بھی گرفتار کیا جائے گا، تاہم علی محمد خان پارلیمنٹ ہاؤس سےروانہ ہوگئے ہیں اور پولیس کی جانب سے انہیں گرفتارنہیں کیا گیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے گئے ہیں۔

ڈی چوک، نادرا چوک، سرینا اور میریٹ کے مقام سے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق شیرافضل مروت کو نئے قانون کے تحت قواعدوضوابط کیخلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا، ان کو پولیس سے تصادم کے مقدمے میں گرفتارکیا۔

اسلام آباد پولیس نے شیر افضل مروت کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے،اس موقع پر مزاحمت کرنے پر شیر افضل مروت کے پرائیویٹ گارڈ کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔پولیس شیر افضل مروت کو لےکر تھانہ کوہسار پہنچ گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جلسوں کے نئے قانون کی خلاف ورزی پر سنگجاجی جلسے میں موجود پنجاب کی قیادت کےخلاف بھی کریک ڈاون شروع ہونےکا امکان ہے اور اسلام آباد پولیس نے پنجاب پولیس کو باضابطہ طورپر آگاہ کردیا۔

ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات 3 تھانوں میں درج کیے گئے ہیں، مقدمات اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر2024کے تحت درج کیے گئے، مقدمات میں کار سرکار میں مداخلت، توڑ پھوڑ اور دفعہ 144کی خلاف ورزی کی دفعات شامل ہیں۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ بیرسٹر گوہر، عمرایوب، زرتاج گل، عامر مغل، شعیب شاہین، شیر افضل مروت مقدمات میں نامزدہیں جبکہ سیمابیہ طاہر اور راجہ بشارت سمیت 28 مقامی رہنما بھی مقدمات میں نامزد ہیں۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درج مقدمے کے متن کے مطابق پولیس نے روٹ کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی کارکنوں کو روکا جس پر کارکنوں کی جانب سے پتھروں اور ڈنڈوں سے پولیس پرحملہ کیا، مقدمے کے مطابق پولیس نے شیلنگ کی اور موقع سے 17 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔

دوسری طرف خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی گمشدگی کا دعوی کیا ہے۔

مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گںڈاپور سے دوپہر کے بعد سے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود کوئی رابطہ نہیں ہوا اور اُن کے تمام نمبرز بند مل رہے ہیں۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور پشاور میں نہیں اسلام آباد میں ہیں تاہم وہ کہاں ہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا جبکہ ہم اُن سے رابطے کی مسلسل کوششیں کررہے ہیں، علی امین

گنڈاپورکوگرفتار کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔

ایک نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا ہائوس میں موجود ہیں ان کی وہاں موجودگی کی تصدیق وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کی ہے جو ملاقات بھی کرکے آئے ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے