فوج کے سپہ سالار کے ساتھ یک جان دو قالب ہوکر خدمت کر رہا ہوں:وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں پاکستان کا خادم ہوں، فوج کے سپہ سالار کے ساتھ یک جان دو قالب ہوکر خدمت کر رہا ہوں۔
قومی یوتھ کنونشن سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ چند روز پہلے یوم آزادی جوش و خروش سے منایا، چالیس سال بعد اولمپکس میں پاکستان نے گولڈ میڈل جیتا، ارشد ندیم نے یوم آزادی کی خوشیوں کو دوبالا کیا، ارشد ندیم نے ہمت نہیں ہاری،چیلنجز کا سامنا کیا۔پاکستان کی ترقی کی کنجی نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، حکومت کا فرض ہے کہ نوجوانوں کوجدید علم سےروشناس کرائے، نوجوانوں کو مواقع مہیاکیے جائیں توپاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گا، پاکستان کواتحادواتفاق کےساتھ آگےبڑھناہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو سیاسی معاشرتی لحاظ سے 1973 کے آئین نے جوڑاہوا ہے، آئین قومی وحدت کا نشان ہے، ہمارے آپس کے سو اختلافات صحیح لیکن آئین پر کسی کو اختلاف نہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کےخاتمے کیلئے 70 ہزار پاکستانیوں نے جانیں دیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں زندگی کے ہرشعبے کے فرد نے حصہ ڈالا، بدقسمتی سے پچھلے چند سال سے دوبارہ دہشت گردی سامنے آئی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 150ارب ڈالر کا نقصان پہنچا لیکن دنیا نےصرف 20 ارب ڈالردیے آج ہمیں پی آئی اے کی نجکاری کرنی پڑ رہی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پی آئی اے نے برادرممالک کی ائیرلائنز قائم کرکے دیں، ہمارے 5 سالہ ترقیاتی منصوبے کو جنوبی کوریا نےنقل کیا، آج جنوبی کوریا کہاں چلا گیااور ہم کہاں ہیں سب کو معلوم ہے، معیشت کو ٹھیک کرنا ہے تو نوجوانوں کو ترقی کیلئے تمام وسائل دیں گے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ جس نے پاکستان کو تقسیم کرناچاہا آج ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ جس شخص نے پاکستان کو تقسیم کیا اس کے مجسموں کے ساتھ بنگلا دیش میں کیا ہوا؟ مشرقی پاکستان ہمارا حصہ تھا جو بدقمستی سے جدا ہوگیا۔ میں پاکستان کا خادم ہوں اور پاک فوج کے سپہ سالار کے ساتھ یک جان دو قالب ہوکر خدمت کر رہا ہوں، ادارے اپنے دائروں میں رہ کر خدمت نہیں کریں گے تو آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں