کالا باغ ڈیم کی حمایت کے معاملے پر پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے کالا باغ ڈیم کی حمایت پر پارٹی میں اندرونی اختلافات سامنے آ گئے اور پارٹی کے اعلیٰ رہنما اور چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس کی مخالفت کر دی۔

وزیر اعلیٰ علی امین نے گزشتہ روز اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت میں کالا باغ ڈیم بنانے کی حمایت کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ملک کی خاطر کالا باغ ڈیم بننا چاہیے۔ تاہم انھوں نے واضح نہیں کیا تھا کہ ان کی جماعت اس کی حمایت کرے گی یا نہیں۔

علی امین کے بیان پر عوامی نیشنل پارٹی، جو کالا باغ ڈیم کی ابتدا سے مخالفت کرتی آئی ہے، نے موقف اپنایا کہ کالا باغ ڈیم کسی صورت نہیں بنے گا۔ تاہم علی امین کے بیان پر سب سے حیران کن بات ان کی اپنی جماعت کی مخالفت ہے جو کسی اور نے نہیں بلکہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے خود کی۔

 پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو  کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سی سی آئی کی میٹنگ میں فیصلہ ہوا تھا کہ نہریں بھی نہیں نکالی جائیں گی تو پھر ڈیم کیسے بنا سکتے ہیں۔ ’دیکھو، اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں ڈیم بننے چاہئیں اور ملک کو کئی ڈیموں کی ضرورت ہے، لیکن مشاورت کے ساتھ۔‘

بیرسٹر گوہر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ابھی سی سی آئی میں متفقہ طور پر فیصلہ ہوا تھا کہ مشاورت کے بغیر نہریں بھی نہیں نکالی جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ صوبوں سے مشاورت کے بغیر کوئی ڈیم نہیں بننا چاہیے۔ ’میرے خیال میں صوبوں سے مشاورت اور اتفاق رائے کے بغیر کچھ نہیں بننا چاہیے۔‘

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر کالا باغ ڈیم پر  وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا بیان ذاتی قرار دے دیا۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم  پر علی امین گنڈاپور کا بیان ذاتی ہے، پارٹی پالیسی نہیں،  ہم نہیں سمجھتے اس وقت کالا باغ ڈیم کی کوئی ضرورت ہے۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اس وقت  اور  بھی چھوٹے چھوٹے ڈیم بنائے جاسکتے ہیں، علی امین کے اپنے علاقے میں چشمہ رائٹ بینک کینال کا ایک پراجیکٹ ہے، اس سے ان کے علاقےکی پانی کی ضرورت پوری ہو جائےگی۔سینئر رہنما پی ٹی آئی  اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ  متنازع چیزوں کو غیر ضروری طور  پر چھیڑنا اچھا نہیں ہے۔

علی امین گنڈاپور کے بیان کو عوامی نیشنل پارٹی نے مسترد کر دیا۔ مرکزی صدر اے این پی ایمل ولی نے کہا کہ کالا باغ ڈیم تو مشرف جیسے آمروں سے بھی نہ بن سکا جو مکا لہرا کر کہتے تھے کہ ’میں ہوں تو پاکستان ہے ورنہ کچھ نہیں‘۔ ایسے بیانات ہمیشہ عوام کی توجہ اصل مسائل اور اپنی لوٹ مار سے ہٹانے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کالا باغ کو قوم نے ایک بار دفن کر دیا، اب کسی کے باپ کی بھی مجال نہیں کہ اس مردے کو دوبارہ زندہ کرے، ہاتھ لگانا تو دور کی بات ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان تو چھوڑیں، دنیا بھر کے آبی ماہرین یہ بات مانتے ہیں کہ ڈیم سیلاب روکنے کا حل نہیں ہوتے۔ اور اگر کوئی اب بھی ضد پر قائم ہے تو بھاشا ڈیم بنا لے۔ بھاشا کی عمر کالا باغ سے دوگنی ہے اور بجلی 3 گنا زیادہ پیدا کرتا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے