سینیٹ: انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور

سینیٹ نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کے بل کو کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔ اپوزیشن نے بل کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور اپنی ترامیم مسترد ہونے کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال ناصر کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2025 پیش کیا۔ اپوزیشن ارکان نے بل کو آئین اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا۔

تحریکِ انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے مخالفت میں کہا کہ یہ بل اسلامی تعلیمات اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ جہاں انصاف نہیں ہوگا وہاں دہشتگردی بڑھے گی۔ بل کو صرف دہشتگردی کی تعریف تک محدود ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد بازی میں یہ قانون سازی نہ کی جائے کیونکہ اس کا سیاسی مخالفین اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملک دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے اور نوجوانوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون میں ماضی میں بھی کئی ترامیم کی جا چکی ہیں اور سیکشن 4 کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو فوج طلب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ سب آرٹیکل ون کے تحت ملزم کو وکیل کرنے کا حق بھی حاصل ہوگا۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ بل ہمیں منظور کرنا ہوگا کیونکہ ہم دہشتگردی کے خلاف بڑے محاذ پر لڑ رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ انصاف آئین کے مطابق یقینی بنایا جائے۔ایم کیو ایم کے سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کی جڑیں اکثر کمپرومائزز کی وجہ سے مضبوط ہوئیں۔

اپوزیشن کے سینیٹر کامران مرتضی نے بل پر ترامیم پیش کیں، جن میں اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوانے کی تحریک بھی شامل تھی، تاہم ایوان نے انہیں مسترد کر دیا۔

بل پر بحث کے بعد ایوان نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2025 کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔مزید قانون سازی کے دوران سینیٹ نے پیٹرولیم ایکٹ 1934 میں مزید ترمیم کا بل بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا، جسے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیش کیا۔

ایوان نے سی ڈی اے ترمیمی آرڈیننس 2025 اور نیشنل فوڈ سیفٹی اتھارٹی آرڈیننس 2025 کی معیاد میں 120 روز کی توسیع کی قراردادیں بھی منظور کیں۔

بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ تاہم اجلاس کے دوران چیئرمین سینیٹ نے اعلان کیا کہ ایوان کے ارکان نے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے اپنی 5 روز کی تنخواہیں عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرِ قانون نے اپنی پوری ماہانہ تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا اور دیگر ارکان کو بھی اس کی ترغیب دی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے