شہبازسپیڈ کراچی آنے پر سلو ہوجائے تو یہ قبول نہیں، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کے فور منصوبے کے لیے شہباز سپیڈ سے رابطہ کیا تھا، تھا لیکن یہاں شہباز سپیڈ سلو ہوگئی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں 12.8 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی نئی حب کینال کا افتتاح کر دیا، جو 22 سال بعد مکمل ہونے والا بڑا منصوبہ ہے۔ اس کینال کے ذریعے یومیہ 100 ملین گیلن اضافی پانی شہر کو فراہم ہوگا، جس سے ڈسٹرکٹ سینٹرل، کیماڑی، ویسٹ اور لیاری کے باسیوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پنجاب کے لیے شہباز اسپیڈ کراچی کی باری آنے پر سلو ہو جائے۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے جیالوں نے نفرت اور تقسیم کی سیاست کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کا بھی مقابلہ کیا۔ اس وقت صوبائی حکومت اور بلدیاتی نظام مل کر کام کررہے ہیں جس کا فائدہ عوام کو ہورہا ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہاکہ کراچی کے لیے اضافی پانی کے منصوبے کا افتتاح کردیا، حب ڈیم سے نئی کینال کے ذریعے شہر قائد کو پانی ملے گا۔ کراچی اور حیدرآباد کے عوام نے پیپلزپارٹی پر اعتماد کرتے ہوئے یہاں جیالے میئر بنوائے جس کا فائدہ عوام کو ہورہا ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف کے فور سمیت کراچی کے لیے کیے گئے دیگر وعدے پورے کریں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ نفرت کی سیاست کرنے والوں کو کراچی اور حیدرآباد کے عوام نے پہچان لیا ہے، ہم انتہا پسندی کی سیاست کے بجائے کراچی کے عوام کی خدمت کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ بھارت نے نیتن یاہو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا تھا، جس کا ہم نے منہ توڑ جواب دے کر فتح حاصل کی، اور پھر سفارتی میدان میں بھی ہمیں کامیابی ملی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو للکارتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے، حال ہی میں اسے شکست ہوئی مگر پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی حمایت سے باز نہیں آ رہا۔ ’کراچی والے اپنے دریاؤں کا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو میدانِ جنگ میں بھی مقابلہ کریں گے۔‘

تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سمیت پیپلزپارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دسمبر تک پرانی حب کینال کی مرمت مکمل کر لی جائے گی اور 200 ایم جی ڈی پانی کا انفراسٹرکچر فعال ہو جائے گا۔ یہ تمام منصوبے سندھ حکومت اپنے وسائل سے مکمل کر رہی ہے، وفاقی حکومت سے صرف تعاون درکار ہے تاکہ روزانہ 14 کروڑ گیلن پانی کراچی کو فراہم کیا جا سکے۔

کراچی پورٹ کو قیوم آباد سے جوڑنے، چار نئے فلائی اوورز، ایک انڈر پاس اور شاہراہ بھٹو کے آخری فیز سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے بھی اسی سال مکمل کر دیے جائیں گے۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شہباز اسپیڈ نے 2 سال میں کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا، بلاول بھٹو نے کے فور منصوبے کے لیے شہباز اسپیڈ کی درخواست کی تھی جس پر توجہ نہیں دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے حب کینال منصوبہ مکمل کرنے کے لیے ایک سال کا وقت دیا تھا، جسے 11 ماہ میں ہی مکمل کرلیا گیا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہاکہ شہباز اسپیڈ کا تو ہمیں نہیں معلوم لیکن بلاول اسپیڈ کو سب نے دیکھ لیا ہے۔ بلاول بھٹو نے کے فور منصوبے کے لیے وزیراعظم سے شہباز اسپیڈ کی درخواست کی تھی جس پر توجہ نہیں دی گئی۔ ہم بلاول بھٹو کے وعدوں کو ایفا کررہے ہیں، مواچھ گوٹھ تک پانی پہنچانے میں کامیاب ہوں گے۔

میئر کراچی نے کہاکہ 30 اپریل تک کراچی میں 2 انڈر پاس اور فلائی اوور مکمل ہو جائیں گے، جبکہ کراچی سے کاٹھور تک روڈ دسمبر تک مکمل کرلیں گے، عوام کی خدمت کا یہ سفر جاری رہےگا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے