بلوچستان کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے، سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔قیام پاکستان کے وقت قبائلی عمائدین نے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں قومی استحکام کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے لوگوں کو پاکستان سے دور کرنے کی منظم سازش ہورہی ہے، صوبے کے لوگوں کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں جس کے زور، ایما، پیسے اور ڈالر پر آپ پاکستان کو توڑنے کی بات کررہے ہیں، اس کا انجام تو آپ نے 9 اور 10مئی کو معرکہ حق کی صورت میں دیکھ لیا۔
’افواج پاکستان نے اپنے سے 7 گنا بڑے دشمن کے جس طرح دانت کھٹے کیے، ہندوستان کا تکبر خاک میں ملایا، شاید اس کا اندازہ خود ہندوستان کا بھی نہیں تھا، بلوچستان کے لوگوں کو اس بات کی اہمیت کا اندازہ ہے۔‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ایک یا 2 فیصد لوگ بلوچستان نہیں ہیں، ٹھیک ہے بلوچستان کے مسائل ہیں، پسماندگی ہے، گورننس کی پریکٹسز مناسب نہیں رہی ہیں، لیکن یہ شدت پسندی کی بنیاد نہیں ہے، ملک میں جہاں مذہب کے نام پر دہشتگردی ہوتی ہے، اس کو تو ہم سارے مل کے دہشتگردی کہتے ہیں، جو ریاست کے خلاف بندوق اٹھاتا ہے اس کے ساتھ مذاکرات کا کوئی راستہ نہیں ہوتا چاہیے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے وقت قبائلی عمائدین نے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہا گیا تھا اور پاکستان کا اسلام کا قلعہ ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں