میانوالی حملہ:گرفتارملزم کو 25 سال قید، عمر ایوب کے وارنٹ برقرار

سرگودھا کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے جڑے جوڈیشل کمپلیکس میانوالی حملہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے گرفتار ملزم اسماعیل کو 25 سال قید کی سزا سنا دی ہے، جو اس مقدمے میں دی جانے والی سب سے طویل سزا ہے۔

 مئی کے سانحات میں شامل یہ مقدمہ ان درجنوں کیسز میں سے ایک ہے جن میں پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکنان کو سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ عدالتی فیصلے کو سیاسی اور قانونی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاستی ادارے 9 مئی کے حملوں کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

فیصل آباد کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے گزشتہ روز  9 مئی کے دو اہم مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے کئی اہم رہنماؤں کو مختلف سزائیں سنائیں۔

خصوصی عدالت نے حساس ادارے پر حملے اور غلام محمد آباد تھانے میں درج مقدمات کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل، اور صاحبزادہ حامد رضا سمیت 108 افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے مختلف قید کی سزائیں سنائیں، جب کہ کئی افراد کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔

عدالت نے فیصلے میں احمد خان بچھر، احمد چھٹہ اور بلال اعجاز سمیت 51 افراد کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

اس مقدمے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما عمر ایوب خان کے پہلے ہی ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم وہ تاحال مفرور ہیں۔ عدالت نے ان کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے