پی ٹی آئی کے سینٹ ٹکٹ اور مرزا آفریدی سوشل میڈیا پر زیربحث

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے خیبر پختونخوا میں سینٹ نشستوں کے لئے پارٹی ٹکٹوں کا معاملہ اور ڈپٹی سپیکر مرزا آفریدی سوشل میڈیا پر مسلسل زیر بحث ہیں
پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سینٹ کے ٹکٹ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی متنازع ہو رہے ہیں اور پیسوں کے عوض ٹکٹ دیئے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں
سوشل میڈیا صارفین کہہ رہے ہیں کہ کل تک جنید اکبر کہہ رہے تھے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ اس کا فارم ہاؤس ہے
سلمان اکرم راجہ کہہ رہے تھے کہ مرزا آفریدی کے فارم ہاؤس پر نہ جاتے تو بہتر تھا، میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور پیسے والے کو ہرگز ٹکٹ نہیں ملے گا
علیمہ خان کہہ رہی تھیں کہ فارم ہاؤس پر تحریک کو 90 دن آگے کرنے کا اعلان درست نہیں، اور تحریک 5 اگست کو اپنے عروج پر ہوگی
یوٹیوبرز بتا رہے تھے کہ علی امین گنڈا پور اسلام آباد سے بتائے بغیر اپنی پارٹی کے ایم پی ایز کو مرزا آفریدی کے فارم ہاؤس پایا، عمران خان کبھی اسے ٹکٹ نہیں دیں گے
عمران ریاض جیسے یوٹیوبرز کہہ رہے تھے کہ مرزا آفریدی نے 12 کروڑ رشوت دی ہے، لینے والے رہنماؤں کے نام بھی بتائے۔
اور اب عمران خان کی منظوری سے فہرست سامنے آئی ہے، تو مرزا محمد آفریدی کا نام اس میں شامل ہے

مرزا آفریدی  کون ہیں؟

مرزا محمد آفریدی کا تعلق خیبر سے ہے، مگر فیملی اور کاروبار لاہور میں ہے۔ یہیں پلا بڑھا اور تعلیم حاصل کی۔ ملک کے بڑے سرمایہ داروں میں شمار ہوتا ہے۔ 2018 میں سرمائے کے بل بوتے پر تحریک انصاف کے ووٹ خرید کر خیبرپختونخوا سے سینیٹر بنا، اور ن لیگ میں شامل ہو گیا۔ 2021 میں سینیٹ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن ہوا تو تحریک انصاف نے بغیر کسی شرم حیا کے ووٹ خریدنے والے کو پارٹی میں شامل کر لیا، نہ صرف شامل کیا بلکہ صادق سنجرانی کے ساتھ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بھی بنوا دیا۔ یہ شخص 9 مئی کے بعد پارٹی چھوڑ گیا، اور اس پر قاباعدہ ویڈیو پیغام جاری کیا۔ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کا چچا زاد بھائی ہے۔
پی ٹی آئی کے اپنے کارکنان اور عمران ریاض جیسے حامی یوٹیوبرز اسے اسٹیبشلمنٹ کا بندہ اور بھگوڑا کہہ رہے ہیں۔ مگر اب خود عمران خان نے اس اسٹیبلشمنٹ کے بندے کو ٹکٹ جاری کیا ہے، تو اب اس میں سے بھی خان کی عظمت کا کوئی پہلو نکال لیا جائے گا۔
ایک عرصے سے شرح صدر کے ساتھ اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، سب عمران کی منظوری سے ہو رہا ہے۔ باقی سب ڈھکوسلا ہے۔ علی امین گنڈاپور اگر وزیراعلی ہے تو عمران نے بنایا ہے۔ اگر وہ اسٹیبلشمنٹ سے ملا ہوا ہے تو عمران کی اشیرباد سے ملا ہوا ہے۔ بیرسٹر سیف اگر اداروں کا آدمی ہے تو عمران کی منظوری سے حکومتی ترجمان ہے۔ تو یہ کہنا کہ سب اسٹیبلشمنٹ سے ملے ہوئے ہیں، مگر ہم تو عمران کے پیچھے ہیں۔ تو بھائی عمران خان اس سے کیسے بری الذمہ ہے، وہ خود اس میں شامل ہے، اور اس دن کی آس امید میں ہے جب دوبارہ اس پر ہاتھ رکھ دیا جائے۔
مرزا آفریدی کو ٹکٹ دینے سے ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیا ہے کہ عمران خان کی سیاست صرف اُن کے اپنے مفاد کے گرد گھومتی ہے۔ تبدیلی، انقلاب، حقیقی آزادی یہ سب اُن کے جھوٹے اور کھوکھلے نعرے ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے