خیبر پختونخوا کسی سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا: فضل الرحمن

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ میری تجویز ہو گی صوبے میں تبدیلی آئے اور تبدیلی آئے تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر سے ہی آئے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن  کا کہناتھاکہ ہمارا صوبہ کسی سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ صوبے سے متعلق پارٹی مشاورت سے فیصلہ کرے گی، میری تجویز ہو گی صوبے میں تبدیلی آئے اور تبدیلی آئے تو پی ٹی آئی کے اندر سے ہی آئے۔ان کا کہنا تھاکہ سینیٹ سے متعلق کیا ایڈجسمنٹ ہوتی ہے ابھی تبصرہ نہیں کرسکتا ہے۔

فضل الرحمن کا کہنا تھاکہ فاٹا انضمام غلط فیصلہ تھا جس کو سب پارٹیوں کو تسلیم کرنا چاہیے ، کل قبائل کا گرینڈ جرگہ دوبارہ بیٹھے گا، ان سے مشاورت کریں گے، ہم نے پہلے بھی فاٹا کے عمائدین کے مشورے سے فیصلے کرنا چاہے، انضمام مقصد نہیں تھا، بات قبائل کے سیاسی مستقبل کی تھی، انضمام کی تجویز آئی تھی ہم نے کہا نہیں، قبائل کو اختیار دو، فاٹا سے متعلق قبائلی مشران کی مشاورت ناگزیر ہے۔

سربراہ جے یوآئی (ف) نے مزید کہا کہ فاٹا کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں کتنے پشتون ہیں اور کتنے صوبے سے ممبر ہیں ؟ کمیٹی نے جے یو آئی  سے نام مانگا ہے اور ہمیں فریق تسلیم کیا ہے، ہمارے صوبہ کا پیسا صرف اس لیے ہے کہ مراعات لی جائیں،  کے پی اور بلوچستان میں جس بچے پر ظلم ہوتا ہے، میں ان کو اپنا بچہ سمجھتا ہوں، 8 سال ہو گئے ہیں فاٹا میں ایک پٹواری نہیں جاسکتا ہے ، جمعیت علمائے اسلام سے بڑھ کر کس نے ملین مارچ کیے، عوام کا مورال بلند کرنے کےلیے پشاور میں ملین مارچ کیا۔

مولانا فضل الرحمن  کا کہنا تھاکہ سیاستدان جیل جاتا ہے لیکن تحریک صرف رہائی کےلیے نہیں ہوتی، تحریکیں عظیم مقاصد کےلیے ہوتی ہیں، پی پی، مسلم لیگ ن اور اے این پی سے اختلاف ہیں پر دشمنی نہیں،  پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان دشمنی تو نہیں ہے، دونوں کے درمیان تلخ زمانہ گزرا ہے۔

 فضل الرحمن  نے کہا کہ امن و امان سے متعلق اپوزیشن نے بات چیت کی تو بیٹھ کر بات کریں گے، تمام سیاسی پارٹیوں کو تسلیم کر لینا چاہیےکہ انکی کوئی سیاسی بصیرت نہیں،  سندھ میں ڈاکوؤں کا راج ہے،3صوبے بےامنی کی لپیٹ میں ہیں، حکمران اپنی عیاشیوں میں مگن ہیں اور جیبیں بھر رہےہیں، غریب عوام دہشت گردی سے متاثر ہو رہی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے