پختونخوا حکومت کا قبائلی اضلاع کی حیثیت تبدیل کرنے پر اعتراض
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع سے متعلق وفاقی حکومت کی قائم کردہ کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے اسلام آباد میں کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ کے نمائندہ کی حیثیت سے شرکت کی، چیف سیکرٹری اور آئی جی بھی شریک ہوئے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی مشاورت کے بغیر کمیٹی کی تشکیل سوالیہ نشان ہے، ضم شدہ اضلاع کا سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر خیبر پختونخوا ہے، مگر کمیٹی کی تشکیل میں خیبر پختونخوا سے مشاورت نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع حساس علاقے ہیں، وہاں کسی بھی قسم کی تبدیلی خیبر پختونخوا سے مشاورت کے بغیر ناقابلِ قبول ہوگی، ضم اضلاع خیبر پختون خوا کا باقاعدہ حصہ ہیں، کمیٹی کی تشکیل کی مشاورت میں نظرانداز کرنا قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے پوچھا کہ خیبرپختونخوا کے ضم اضلاع کا فیصلہ کرنے والے امیر مقام کون ہیں؟ امیر مقام تو خود مسترد شدہ ہیں اور فارم 47 کے سہارے پارلیمنٹ پہنچے، مسترد شدہ آدمی کیسے قبائلی اضلاع کے فیصلہ کرسکتے ہیں، کمیٹی کے ارکان کس نے اور کیسے منتخب کیے، ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں