بھارت سے تربیت یافتہ بی ایل اے کا ہائی ویلیو آپریٹو گرفتار

کراچی : کاؤنٹر ٹیررزم ٹاسک فورس اور حساس اداروں نے کراچی کے نواحی علاقے ہزارہ گوٹھ میں ایک خفیہ اطلاع پر برق رفتار کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے وابستہ ایک اعلیٰ سطح کے آپریٹو، زکریا اسماعیل کو زندہ گرفتار کر لیا۔

کارروائی ایک کمرشل گودام سے منسلک خفیہ ٹھکانے پر کی گئی، جہاں سے ملزم کے قبضے سے Thuraya سیٹلائٹ فون، 9 ملی میٹر Glock پستول، جعلی افغان شناختی کارڈ اور 11,800 امریکی ڈالر کی نقدی برآمد ہوئی۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ زکریا کا اصل نام ذوالفقار ہے، اور وہ بی ایل اے کے کراچی سیل کا کلیدی منصوبہ ساز اور بھارتی خفیہ ادارے RAW سے براہِ راست رابطے میں تھا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، زکریا نے 2023 میں "محمد رزاق ولد عبداللہ” کے نام سے بھارتی ویزا حاصل کیا اور دبئی کے ذریعے دہلی پہنچا۔ وہاں RAW کے بلوچستان ڈیسک نے اُسے تخریب کاری، IED فیوزنگ اور سبوتاژ کی پیشہ ورانہ تربیت دی۔ دہلی کے نارتھ بلاک میں ہونے والی بریفنگز میں اسے اجیت دوول کا "Defensive Offence Doctrine” پڑھایا گیا — وہی نظریہ جس کے تحت پاکستان کو اندرونی خلفشار کے ذریعے غیر مستحکم کرنے کی پالیسی اپنائی گئی۔

زکریا کو کراچی یونیورسٹی کے لاء ڈیپارٹمنٹ میں ایڈجسٹ کیا گیا، جہاں وہ ایک سلیپر نیٹ ورک کے قیام اور توسیع میں مصروف تھا۔ اسی کیمپس میں 2022 میں شاری بلوچ نے خودکش حملہ کیا تھا۔ یونیورسٹی میں اس کی مشکوک سرگرمیاں دو مرتبہ نوٹ کی گئیں، جس کے بعد وہ روپوش ہو گیا۔

زکریا کے سیٹلائٹ فون سے حاصل کردہ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ 21 مئی کو خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے بم حملے سے صرف چند گھنٹے قبل اُس نے ایک دہلی کے +91-11-4XX-XXXX نمبر پر تین منٹ اور 41 سیکنڈ طویل کال کی۔ فارنزک تجزیہ سے ثابت ہوا کہ اسی فون سے حملے میں استعمال ہونے والے ریموٹ ڈٹونیٹر کی فریکوئنسی میچ ہوئی۔ مزید یہ کہ دھماکے سے 29 منٹ پہلے اُس نے خضدار میں بی ایل اے کے فیلڈ کمانڈر حامد داود سے بھی رابطہ کیا تھا۔

زکریا اسماعیل کی گرفتاری صرف ایک دہشت گرد کی گرفتاری نہیں بلکہ بی ایل اے اور RAW کے مابین ایک مربوط گٹھ جوڑ کی قلعی کھولنے والی پیش رفت ہے۔ یہ وہی سازش ہے جس کی بنیاد ایک دہائی قبل اجیت دوول نے رکھی تھی۔ اب اس "گریٹ گیم” کا منطقی انجام کراچی سے خضدار تک بکھرے ٹھوس شواہد کی صورت میں دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔

اگر پاکستان اس موقعے کو مؤثر سفارتی حکمت عملی کے تحت اقوام متحدہ، ایف اے ٹی ایف اور عالمی عدالتوں میں پیش کرے، تو بلوچستان میں جاری خونی پراکسی وار کے پیچھے کارفرما سازشی نیٹ ورک کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے