طاقتور ترین خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے تیسرے سربراہ کا کورٹ مارشل

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پاکستان کے طاقتور ترین خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے تیسرے سابق سربراہ ہیں جنہیں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا ۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں آئی ایس آئی کی سربراہی سونپی گئی تھی۔ اپنی سروس کے دوران فیض حمید کو سیاست میں مداخلت۔ عدالتی فیصلوں پر اثرانداز ہونے اور میڈیا میں مخصوص بیانیہ پروموٹ کرنے سمیت کئی الزامات کا سامنا رہا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اس وقت فوج کی تحویل میں ہیں اور ٹاپ سٹی کیس میں ان کا کورٹ مارشل ہو رہا ہے۔

فیض حمید سے قبل آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) اسد درانی کا بھی کورٹ مارشل ہوا تھا۔
اسد درانی نے انڈین خفیہ ادارے را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ ایک کتاب لکھی تھی جس میں پاکستانی حکام کے بقول ایسا مواد بھی شامل تھا جو کہ پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق ہے۔
سپائی کرانیکلز کے مصنف جنرل اسد درانی کو 25 سال قبل فوج سے بے دخل کیا گیا تھا۔ اصغر خان کیس میں ان کا نام آنے کے بعد انھیں آئی ایس آئی سے جی ایچ کیو بلوا لیا گیا تھا اور پھر جب دوبارہ یہ سامنے آیا کہ وہ سیاسی امور میں مداخلت کر رہے ہیں تو انھیں فوج سے فارغ کر دیا گیا تھا۔
سپائی کرانیکلز کتاب کی اشاعت کے بعد پاکستانی فوج نے انھیں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) طلب کیا اور ان کے خلاف ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس انکوائری کے بعد انہیں فوجی ضابطوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیا گیا اور ان کی ریٹائرمنٹ کی تمام مراعات بھی واپس لے لی گئیں۔

اس سے قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں آئی ایس آئی کی سربراہی کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل ضیا الدین بٹ بھی کورٹ مارشل کا سامنا کر چکے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین کو سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے 12 اکتوبر 1999 کو اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا
تھابعدازاں ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی ہوئی اور انھیں فوجی عہدے سے برخاست کردیا گیا۔
ضیاء الدین بٹ آئی ایس آئی کے حاضر سروس سربراہ تھے جب انہیں نظر بند کیا گیا انہیں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے نیا آرمی چیف بھی مقرر کر دیا تھا لیکن حکومت کاتختہ الٹ جانے کے بعدصورتحال تبدیل ہو گئی اور ضیاء الدین بٹ نئی ذمہ داریاں نہ سنبھال سکے۔
آرمی نے بطور ادارہ جنرل ضیاالدین بٹ کے بارے میں تین انکوائریاں (تحقیقات) کرائیں مگر بعدازاں انھیں ان الزامات سے بری کر دیا گیا کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرنے کی وزیراعظم کی منصوبہ بندی یا ’سازش‘ کا حصہ تھے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے