جنگ بندی، پاکستان نے مودی کی ہرزہ سرائی کو مسترد کردیا
پاکستان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی اشتعال انگیز ہرزہ سرائی مسترد کردیا۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو مایوسی میں جنگ بندی کے لیے درخواست کرتے ہوئے ملک کے طور پر پیش کرنا مودی کا سفید جھوٹ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستانی ایک خودمختار قوم ہے اور اس کے ادارے ہر جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں اور ساری دنیا میں ہماری امن کے لیے کاوشوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔پاکستان نے اپنا حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے بھارت کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جس سے پاکستان نے اپنی فوجی قوّت کا لوہا منوایا۔ یہ اب ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے جس کو پروپیگنڈہ سے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔
شفقت علی خان نے کہاکہ ایسے وقت میں جب بین الاقوامی برادری علاقائی امن اور استحکام کے لیے کوشاں ہے، مودی کا غلط معلومات، سیاسی مفاد پرستی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتا ہوا بیان خطرناک کشیدگی میں اضافے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔مودی کا بیان اس بات کا بھی عکاس ہے کہ کس طرح سے جارحیت کی توجیہہ کے لیے جھوٹے بیانیے کا سہارا لیا جاتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہاکہ پاکستان حالیہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پوری طرح سے پُرعزم ہے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ جنگ بندی بہت سے دوست ممالک کی سہولت کاری کی وجہ سے ممکن ہوئی جنہوں نے پاکستان سے کشیدگی میں کمی کے لیے رابطہ کیا۔عورتوں اور بچوں سمیت معصوم شہریوں کو مارنا اور پھر اُسے نیونارمل کہنا علاقے کے لیے ایک انتہائی غیرذمے دارانہ روّیہ ہے۔ پاکستان اس بات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
’نارمل یہی ہے کہ اقوام متحدہ چارٹر کے اُصولوں کو چیلنج نہ کیا جائے جیسا کہ پاکستان نے اپنا حق دفاع استعمال کرتے ہوئے اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور امن کے لیے کیا۔‘پاکستان دہشتگردی کا شکار ہے جو براہ راست بھارت کی سرپرستی میں ہو رہی ہے۔ ہم اس دہشتگردی کی وجہ سے بہت کچھ برداشت چکے ہیں، دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں ہمارا تعاون اور قربانیاں سب پر عیاں ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستان نے ہمیشہ جموں و کشمیر تنازع کے پرامن حل کی حمایت کی ہے۔ جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں