پاکستان کا ہیرو ارشد ندیم میاں چنوں پہنچ گیا، شہر شہر پر تپاک استقبال
پیرس اولمپکس میں پاکستان کو گولڈ میڈل دلانے والے ہیرو ارشد ندیم اپنے آبائی شہر میاں چنوں پہنچ ہیں، جہاں ان کے استاد کی جانب سے انہیں استقبالیہ دیا گیا، جس کے بعد وہ چک 101 میں واقع اپنے گھر پہنچ گئے، گھر پہنچنے پر ارشد ندیم کی والدہ نے ان کو گلے لگایا۔
میاں چنوں پہنچے پر عوام کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا، ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئی، شہریوں نے ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا،
شہریوں نے پاکستان زندہ باد کے بعرے بھی لگائے۔

پیرس اولمپکس میں تاریخ رقم کرنے والے اور 40 سال بعد پاکستان کو سونے کا تمغہ جتوانے والے جیولین تھرور ارشد ندیم ہفتے کی رات وطن واپس پہنچے تھے، ان کے جہاز نے رات ایک بج کر 20 منٹ پر لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔
لاہور ایئرپورٹ آمد پر ان کا بھرپور استقبال کیا گیا، ایئر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے پاکستان کی حدود میں طیارہ داخل ہونے پر خوش آمدید کہا گیا، طیارے کو خصوصی واٹر کینن سیلوٹ پیش کیا گیا، لاہور ایئر پورٹ پر شہریوں کی بہت بڑی تعداد قومی ہیرو کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھی۔
طیارے سے باہر آنے کے بعد انہیں ایئرپورٹ سیکیورٹی حکام کی جانب سے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے، ارشد ندیم کی اپنے والد سے ملاقات پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، والد انہیں گلے سے لگا کر اپنے آنسوؤں کو روک نہ سکے اور اپنے بیٹے کو پھولوں کے ہار پہنائے۔

ارشد ندیم کوسپیشل بس پر لاہور کی سیر بھی کروائی گئی جس کے بعد وہ نماز فجر کی ادائیگی کے لیے رائیونڈ کے تبلیغی مرکز بھی گئے، جہاں انہوں نے ایک گھنٹہ قیام کیا، اس اہم کامیابی پر ارشد ندیم سجدہ ریز ہو کر اللہ کا شکر ادا کرتے بھی دکھائی دئیے۔
رائیونڈ مرکز میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد وہ اپنے آبائی گاؤں میاں چنوں قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے تھے، راستے میں جگہ جگہ ان کا استقبال کیا گیا، علاقے کے داخلی دروازوں پر خوش آمدید ارشد ندیم کے بینرز آویزاں کیے گئے تھے۔

ارشد ندیم کے جہاز نے رات ایک بج کر 20 منٹ پر لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ کیا تھا، تاہم وہ تقریبا 2 بجکر 20 منٹ پر میاں چنوں میں اپنے آبائی گھر پہنچے ہیں، لاہور سے میاں چنوں کا فاصلہ تقریبا 4 گھنٹے کا ہے، لیکن ارشد ندیم جلوس کی شکل میں لاہور سے میاں چنوں روانہ ہوئے۔
راستے میں جگہ جگہ ارشد ندیم کے استقبال کے لیے کیمپس لگائے گئے تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے 4 گھنٹوں کا فاصلہ تقریبا 13 گھنٹوں میں طے کیا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں