اسرائیلی درندگی :مسجد پر فضائی حملے میں 100 فلسطینی شہید
اسرائیلی فوج وحشیانہ کارروائیاں جاری آج صبح نماز ادا کرتے ہوئے فلسطینیوں پر ہزاروں پاؤنڈ وزنی بم گرا دئیے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 100 سے زائد افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق شمالی غزہ کے علاقے الدرج میں پناہ گزین کیمپ میں قائم سکول میں 250 کے قریب فلسطینی نما فجر ادا کر رہے تھے کہ
اسرائیل نے ان پر بم برسا دئیے ، میزائلوں کے حملے میں 100 سے زائد فلسطینی شہیدہوئے جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج نے سکول پر تین میزائل گرائے، ہر بن کا وزن 2 ہزار ؤانڈ تھا، اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والےسکول میں بےگھرفلسطینیوں نے پنا ہ لے رکھی تھی۔اس حوالے سے اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ سکول حماس کا ہیڈ کوارٹر تھا جہاں دہشت گرد موجود تھے جبکہ غزہ حکام کے مطابق اسرائیل نے جان بوجھ کرسکول کو نشانہ بنایا، فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد نے الدرج کےسکول پراسرائیلی بمباری کومکمل طورپر جنگی جرم قراردیدیا۔

ادھر قطر، مصر اور امریکا نے اسرائیل اور حماس کو جنگ بندی کے لیے نئی تجویز پیش کر دی، غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے تجویز پر مذاکرات کے لیے حامی بھرلی اور ان کا کہنا ہے کہ 15 اگست کو اسرائيلی وفد مذاکرات میں شرکت کرے گا۔
خبر ایجنسی کے مطابق قطر، مصر اور امریکا، اسرائیل اور حماس پر 15 اگست سے جنگ بندی مذاکرات شروع کرنے پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاہم فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اس حوالے سے کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا۔ تینوں ملکوں کے مشترکہ بیان کے مطابق 15 اگست سے مذاکرات شروع کریں جو دوحا یا قاہرہ میں ہو سکتے ہيں، اب کسی فریق کی طرف سے عذر پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں