مملکت پاکستان کا استحکام تحریک تکمیل پاکستان کی ضمانت ہے: وزیر اعظم آزاد کشمیر
چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون نے کہا ہے کہ پاکستان کے کشمیر کو کبھی مقبوضہ کشمیر سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ پاکستان کشمیر کی قالب اور دو جان ہے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کا دل ہمیشہ پاکستانیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے، اور کمیٹی نے کئی مسائل بہتر انداز میں حل کیے ہیں۔چوہدری انوار الحق نے کہا کہ مملکت پاکستان کا استحکام تحریک تکمیل پاکستان کی ضمانت ہے، اور نظریہ الحاق پاکستان کی تکمیل تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی کی زیر صدارت کمیٹی کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا، جس میں معزز اراکین پارلیمنٹ، وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق، پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین، اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں، اور دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون نے کہا کہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اہم تجاویز پیش کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر کی قالب اور دو جان ہے اور کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ جغرافیائی تبدیلیاں کر رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے اجلاس میں شرکت پر چیئرمین کشمیر کمیٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں تمام ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبے اجلاس کا اہم موضوع تھے، جن میں مانسہرہ سے مظفرآباد موٹروے، قانون ساز اسمبلی کی عمارت کی تکمیل، ایل او سی پر متاثرہ آبادی کی بحالی، اور رٹھوعہ ہریام پل کی تعمیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایرا کے باقی ماندہ منصوبے، تعلیم، صحت، اور دیگر شعبے بھی زیر بحث آئے۔
گھر جانا عزت سمجھوں گا کسی سے بلیک میل نہیں ہوں گا: چودہری انوار الحق
وزیراعظم آزاد کشمیر نے بتایا کہ مظفرآباد ایئرپورٹ کو فعال کرنے اور میرپور ایئرپورٹ کی فزیبلٹی اسٹڈی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ شونٹر ٹنل منصوبہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے درمیان ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، جس کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت مختص کی گئی ہے۔
چوہدری انوار الحق نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ گہرے رشتے میں بندھا ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں، لیکن آزاد کشمیر میں صورتحال بالکل مختلف ہے، جہاں عوام کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔ جمہوری اصولوں کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقتدار کی رسہ کشی ہر جمہوری ملک کا حصہ ہے، لیکن یہ ہمیشہ ملکی قوانین کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی میرے خلاف اکثریت رکھتا ہے تو میں اقتدار چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کے عوام کو تین روپے فی یونٹ بجلی فراہم کی ہے، جبکہ آٹا بھی سبسڈائزڈ قیمتوں پر دستیاب ہے۔انہوں نے کہا مملکت پاکستان کا استحکام تحریک تکمیل پاکستان کی ضمانت ہے، اور نظریہ الحاق پاکستان کی تکمیل تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں